اللہ تعالیٰ نے دنیا کی کسی چیز کو بے مقصد پیدا نہیں کیا بلکہ ہر چیز کی اپنی اہمیت، افادیت اور مقصد ہے جسے سمجھنے میں بعض اوقات بنی نوع انسان کو صدیاں لگ جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر ہفتے کے 7 دن اور سال کے 12 مہینے ہوتے ہیں اور جب ہم ان مہینوں اور دنوں کی تقسیم پر غور کرتے ہیں تو ان میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت نظر آتی ہے۔ مہینوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورۂ توبہ کی آیت نمبر 36 میں ارشاد فرمایا:
بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی کتاب اللہ میں 12 ماہ ہے، جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا تھا اور ان میں سے 4مہینے حرمت والے ہیں۔
اسلام میں ہفتے کے 7 دنوں کا بھی تصور ملتا ہے۔ عربی میں ہفتے کا پہلا دن اتوار سے شروع ہوتا ہے جسے یوم الاحد کہتے ہیں، پھر اثنین، ثلاثہ، اربعہ، الخمیس، الجمعہ اور السبت یعنی ہفتے پر سات دنوں کا اختتام ہوجاتا ہے تاہم کسی دن کو اچھا، برا یا بد ترین کہا گیا تو اس کا دارومدار اسلامی تاریخ کے مطابق اس دن کو پیش آنے والے واقعات سے تھا۔
آج سے 2 روز قبل یعنی 17 اکتوبر کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے پیر کے دن کو ہفتے کا بد ترین دن قرار دیا۔ ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا کہ زیادہ تر افراد چاہے وہ ملازمین ہوں یا طلبہ، ہفتہ اور اتوار کے روز چھٹی کرتے ہیں۔ 2 دن آرام کے بعد پیر کے روز دوبارہ کام پر آنا طبیعت کیلئے بوجھ کا باعث بنتا ہے۔
دنیا بھر میں عوام الناس نے پیر کے متعلق ملے جلے احساسات پیش کیے جس کی بنیاد پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز نے پیر کو ہفتے کا بد ترین دن قرار دے دیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے مختلف تبصرے کیے اور بہت سے لوگوں نے اس فیصلے کو درست قرار دیا۔
بطور مسلمان ہمیں علم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پیر کے روز پیدا ہوئے تھے۔ امام ابنِ جریر طبری کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پیر کے روز ربیع الاوّل کی 12ویں تاریخ کو عام الفیل میں پیدا ہوئے تھے۔
فیل عربی میں ہاتھی کو کہتے ہیں اور اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ عام الفیل وہ سال ہے جب ابرہہ نامی ایک شخص اپنا ہاتھیوں کا لشکر لے کر کعبۃ اللہ پر حملہ آور ہوا۔ تاریخ کہتی ہے کہ اس کی ناک کسی جنگ کے دوران کٹ گئی تھی۔
عربی لوگ، خصوصاً بدو اپنی صاف گوئی اور بے باکی کے باعث تاریخی شہرت رکھتے ہیں۔ جب ایک بدو کو ابرہہ کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ وہ کعبے پر چڑھائی کرنے چلا ہے تو وہ کہے بغیر نہ رہ سکا کہ جس کام کو ناک والے انجام دینے کا سوچ نہ سکے، وہ ایک نک کٹا سرانجام دینے چلا ہے۔
ابرہہ کو علم تھا کہ بدو قوم سر کٹوا لے گی، لیکن اپنے قول سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اس لیے خاموش ہوگیا اور پھر وہ وقت بھی آیا جب اس نے ہاتھیوں پر سوار لشکر کے ساتھ کعبۃ اللہ پر حملہ کیا۔ پھر سورۃ الفیل کی آیات کے مطابق ابابیل کنکریاں لے کر آئے اور اس کے لشکر کو تباہ و برباد کردیا۔
چونکہ ابرہہ ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کی عمارت پر حملہ آور ہوا تھا، اس نسبت سے عرب قوم نے اس سال کا نام عام الفیل رکھا اور امام ابنِ جریر طبری کے قول کے مطابق اسی سال میں رسول اللہ ﷺ پیر کے روز پیدا ہوئے تھے۔
قبل ازیں یہ ذکر ہوچکا کہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق پیر بد ترین دن ہے، تاہم مسلمان قوم کے نزدیک یہ دن انتہائی قابلِ احترام ہے کیونکہ اس میں رسول اللہ ﷺ نے اِس دنیا میں قدم رنجہ فرمایا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں