دوحہ: بھارت کی نریندر مودی حکومت بھارتی بحریہ کے مبینہ سابق اہلکاروں کی رہائی کیلئے مذاکرات میں ناکام نظر آتی ہے، قطری حکومت کو رضامند نہیں کیا جاسکا۔
تفصیلات کے مطابق قطری حکومت نے اگست کے اواخر میں بھارتی بحریہ کے 8 اہلکار گرفتار کیے جو بقول نریندر مودی حکومت بحریہ سے سبکدوش ہوچکے، تاہم گرفتاری کیوں ہوئی اور رہائی کب ہوگی؟ اس حوالے سے بھارتی میڈیا کے منہ پر چپ کی مہر لگی ہے۔
کیا علامہ اقبال کی ایک قبر ترکیہ میں بھی ہے؟
بھارت کی نریندر مودی حکومت نے سابق اہلکاروں کی رہائی کیلئے قطری حکومت سے مذاکرات کیلئے اعلیٰ ایلچی کو دوحہ روانہ کیا، تاہم مذاکرات میں نہ تو پیشرفت ہوسکی اور نہ ہی اہلکاروں کی رہائی کی کوئی خبر سامنے آئی جبکہ بھارتی حکومت کا رویہ بھی پراسرار ہے۔
آج سے 7روز قبل بھارتی دفترِ خارجہ نے تصدیق کی کہ بحریہ کے 8 سابق اہلکار قطر میں گرفتار ہوئے تاہم گرفتاری کی وجہ بتانے سے جان بوجھ کر گریز کیا گیا۔نئی خبر یہ سامنے آئی کہ گزشتہ 10 روز سے قطری حکومت سے سابق اہلکاروں کی رہائی کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔
قطری دارالحکومت میں بھارتی ایمبیسی کے ایک سفارتکار نے سابق بحریہ اہلکاروں سے ملاقات بھی کی جن کو قطری خفیہ ایجنسی اسٹیٹ سکیورٹی بیورو نے اگست کے آخر میں حراست میں لیا اور پہلی بار ستمبر کے آخر میں سابق اہلکاروں نے اپنے اہلِ خانہ سے بات چیت کی۔
ایک طرف نریندر مودی سرکار کے گن گانے والا بھارتی میڈیا بحریہ کے سابق اہلکاروں کی رہائی میں کسی دلچسپی کا اظہار نہ کرتے ہوئے خاموش ہے جبکہ دوسری جانب محسوس ایسا ہوتا ہے کہ بحریہ کے اہلکار قطر میں جاسوسی یا کسی دیگر سنگین جرم میں ملوث تھے جس کی وجہ سے قطری حکومت نے تاحال رہائی کا فیصلہ نہیں کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








