جنیوا: سائنسدانوں نے خوفناک خوابوں پر قابو پانے کیلئے تکنیک دریافت کر لی ہے جبکہ انسان کو اس کی خوفناک یادیں ہی ڈراؤنے خوابوں کی طرف لے کر جاتی ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کچھ بالغ افراد ہفتے میں متعدد مرتبہ اور بعض اوقات روزانہ بھی خوفناک خواب دیکھتے ہیں جبکہ ایک تھراپی کے ذریعے ایسے خواب دیکھنے والوں کو ڈراؤنے خوابوں کے مثبت ورژن کی مشق کرنے کی تربیت دی جاسکتی ہے۔
ٹوئٹر نے بھارت میں 90 فیصد عملے کو نوکری سے فارغ کردیا
سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں نے خوفناک خواب دیکھنے والوں کیلئے باضابطہ تحقیق کی جس کے نتائج کرنٹ بائیولوجی نامی عالمی جریدے میں گزشتہ ماہ 27 اکتوبر کو شائع ہوئے۔ محققین نے کہا کہ کوئی ایک آواز جو دن کے مثبت تجربے سے وابستہ ہو، ایسے خواب کم کرسکتی ہے۔
ماہرِ نفسیات اور ڈراؤنے خوابوں پر تحقیق کے سینئر مصنف لیمپروس پیرو گامروس کا کہنا ہے کہ خوابوں میں محسوس ہونے والے جذبات کی اقسام اور ہماری جذباتی نشوونما کا تعلق ہوتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ خوفناک خوابوں کی تعداد کم کی جاسکتی ہے۔
تحقیقاتی مطالعے کے نتائج کے مطابق 4 فیصد تک بالغ افراد کسی بھی لمحے ڈراؤنے خواب کا شکار ہوسکتے ہیں جبکہ دائمی خوفناک خواب عموماً رات کو جاگنے اور کچی نیند سے منسلک ہوتے ہیں۔ مریضوں کو امیجری ریہرسل تھراپی تجویز کی جاتی ہے۔
امیجری ریہرسل تھراپی سے خوفناک خوابوں کا باعث بننے والی منفی کہانی کو مثبت انجام تک لے جایا جاتا ہے اور دن کے وقت دوبارہ لکھے گئے خوابوں کے منظر نامے کی مشق کرنے کو کہاجاتا ہے جو بہت سے افراد کیلئے مفید ثابت ہوئی۔
محققین نے 36 مریضوں کا مشاہدہ کیا۔ 50 فیصد افراد کو اضافی علاج میسر نہیں تھا جبکہ باقی 18 کو ڈراؤنے خوابوں کے مثبت ورژن اور تخیل کی مشق کے دوران آواز کے مابین ایسوسی ایشن بنانے کا کہا گیا۔
تمام 50 فیصد افراد نے ایک ہیڈ بینڈ پہنا جسے نیند کے ہیڈ بینڈ کا نام دیا گیا جس سے ڈراؤنے خوابوں میں تیزی سے کمی آئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ نئی تکنیک سے خوفناک خوابوں کو کم کرنا حوصلہ افزاء ہے۔ 3 ماہ بعد خوفناک خوابوں کا شکار افراد کے خواب بہت حد تک کم ہوگئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








