آج کے اس جدید ترین دور میں بھی دریاؤں کو اتنی ہی اہمیت حاصل ہے، جتنی دور جدید کے آغاز سے قبل تھی، بلکہ آج دریاؤں کی وجودی افادیت اور اہمیت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
دریائے سندھ یا سندھو ندی شمالا جنوبا طوالت میں پورے ملک کا احاطہ کرنے والا پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے۔ دریائے سندھ محض پانی کا ایک روایتی ذریعہ ہی نہیں، یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم کردار، اس کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار اور پاکستان کی کئی مقامی ثقافتوں کا منبع بھی ہے۔ اس دریا کو بجا طور پر پاکستان کی شناخت بننے کا اعزاز حاصل ہے۔
دریاؤں کا جغرافیہ دنیا بھر میں بہت ہی دلچسپ اور منفرد ہے، دنیا کے تمام ہی دریا سمندر کے رخ بہتے ہیں اور سمندر میں اپنا وجود گم کرتے ہیں۔ پاکستان کے انتہائے شمال سے بہنے والا یہ عظیم دریا بھی طویل سفر طے کرکے بحیرہ عرب کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔
پاکستان کی زراعت، معیشت اور آبنوشی اور آبپاشی میں دریائے سندھ کی اہمیت مسلم ہے۔ اس دریا کے پہلو بہ پہلو نہ صرف کھیت کھلیان لہلہاتے ہیں بلکہ کئی ثقافتیں بھی اس کے پہلو میں سانس لیتی ہیں۔
دریائے سندھ کی اسی معاشی، ثقافتی اور تاریخی و سماجی اہمیت کے پیش نظر جرمن سفارتخانے اور فریڈرک نومین فاؤنڈیشن نے دریائے سندھ پر پینتالیس دنوں پر مشتمل ایک تاریخی دستاویزی فلم کی نمائش گزشتہ دنوں کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد کرائی۔ اس فلم کی تیاری میں پاکستان نیوی اور سیرینا ہوٹل کا تعاون بھی شامل ہے۔
اس دستاویزی فلم میں دریائے سندھ کی اہمیت اور اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کے مسائل کو بہت خوبصورت انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔ تقریب کے شرکا نے اس فلم میں بڑی دلچسپی لی اور اس کاوش کو خراج تحسین پیش کیا۔
تقریب میں شریک اس اہم دستاویزی فلم کے فلم میکر وجاہت ملک نے ایم ایم نیوز سے خصوصی گفتگو کے دوران فلم بنانے کے دلچسپ اور خوبصورت تجربات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے فلم کی شوٹنگ کا آغاز لائن آف کنٹرول پر اس مقام سے کیا جہاں سے پاکستان میں دریائے سندھ داخل ہوتا ہے۔ ہم نے یہاں سے جنوب کی طرف دریا میں سفر شروع کیا اور پینتالیس دن میں دریائے سندھ کے اس مقام پر پہنچے جہاں سے یہ بحیرہ عرب میں جاگرتا ہے۔
وجاہت ملک نے کہا کہ یہ ایک ایڈونچر چیلنج تھا، تاریخ میں آج تک کسی نے دریائے سندھ کو اس طرح مکمل کور نہیں کیا ہے، یہ اعزاز ہم نے حاصل کیا اور اس کا مقصد دریائے سندھ کی سیاحتی اور انسانی آبادی سے متعلق اس کی اہمیت اور اس سے وابستہ لوگوں اور قوموں کے مسائل اجاگر کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس فلم سے دریائے سندھ کے بارے میں اہم حقائق سے آگہی ملے گی، دریائے سندھ ہے تو ہم ہیں، یہ فلم جلد ایڈٹنگ کے بعد ناظرین کیلئے پیش کی جائے گی۔
ایم ایم نیوز سے اس موقع پر ماحولیات پر نگاہ رکھنے والی صحافی عافیہ سلام نے بھی خصوصی گفتگو کی اور اس فلم اور دریائے سندھ کی افادیت اور اہمیت بیان کی۔ باقی تفصیلات آپ ہماری اسٹوری میں دیکھ سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








