اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے قرض پروگرام پر گفتگو کیلئے جاری مذاکرات ایک بار پھر مؤخر کردئیے ہیں۔ وزیرِ مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے تصدیق کردی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے مابین گفت و شنید مزید تاخیر کا شکار ہے۔ وزیرِ مملکت برائے خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے عوام پر عائد ٹیکسز میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔
عوام کیلئے خوشخبری، ضلعی انتظامیہ کا 9 اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
قرض پروگرام پر آئی ایم ایف سے مذاکرات میں تاخیر کا دورانیہ طے نہ ہوسکا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بات چیت کا آغاز 21 نومبر تک بھی نہ ہونے کا خدشہ ہے۔ ممکن ہے کہ مذاکرات نومبر کے آخر تک تاخیر کا شکار ہوں۔
اپنے ایک بیان میں وزیرِ مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ آئی ایم ایف سے گفت و شنید میں تاخیر ہے جو اکتوبر میں طے تھی۔ عالمی مالیاتی فنڈ کا مطالبہ ہے کہ معیشت میں ٹیکسز کا حصہ بڑھا دیا جائے۔
بیان میں عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ ٹیکسز کا حصہ 9 سے بڑھا کر 11 فیصد کردیا جائے۔ حکومت سیلاب کے باعث آئی ایم ایف سے چھوٹ لینے کی خواہاں ہے۔ سیلاب کے باعث پاکستان کی معیشت کو 2فیصد تباہی کا سامنا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








