عمران خان سے توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والے عمر فاروق ظہور کون ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

عمران خان سے توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والے عمر فاروق ظہور کون ہیں؟
عمران خان سے توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والے عمر فاروق ظہور کون ہیں؟

گزشتہ روز عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں نئی پیش رفت سامنے آئی، ایک نجی ٹی وی چینل پر دبئی کی کاروباری شخصیت عمرفاروق کا نام سامنے آیا جنہوں نے سعودی ولی عہد کی جانب سے سابق وزیراعظم کو ملنے والے تحائف خریدے تھے۔

عمر فاروق کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے سعودی ولی عہد سے ملنے والی قیمتی گھڑی دبئی میں فرح خان کے ذریعے بیچی، پانچ سے چھ ملین ڈالر کی گھڑی 2 لاکھ ڈالر میں فروخت کردی گئی، جس کی مالیت 2019 میں تقریباََ پاکستانی 280 لاکھ روپے تھی۔

واضح رہے کہ اس خبر کے ٹی وی پر آنے سے پہلے سوشل میڈیا صارفین نے قیاس آرائیاں شروع کردی تھیں کہ رات 10 بجے کیا نشر ہونے والا ہے۔

اس دوران جو ٹوئٹ سب سے زیادہ وائرل ہوئی وہ مرحوم صحافی ارشد شریف کی موت سے چند روز پہلے کی گئی ٹوئٹ تھی جس میں انہوں نے عمر فاروق ظہور کا نام لیا تھا، انہوں نے ٹوئٹ میں واضح کیا تھا کہ اُن کے پاس کچھ ایسی معلومات ہیں جو آنے والے دنوں میں خبروں کا حصہ بنیں گی۔

ارشد شریف نے ایک نیوز رپورٹ کا لنک بھی پوسٹ کیا تھاجس میں انہوں نے کورونا ویکسین اسپوتنک کی خریدوفروخت کے حوالے سے انکشافات کیے تھے، انہوں نے بتایا تھا کہ عمر فاروق نے اس ویکسین کو سستے داموں کو خرید کر گھانا، روس، پاکستان، گیانا اور عراق میں مہنگے داموں فروخت کیا تھا۔

نیوز رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستانی شہری عمر فاروق ظہور کا دبئی میں مقیم ایک شیخ کے ساتھ کئی سالوں سے گہرا تعلق تھا جو روسی اسپوتنک کورونا ویکسین کو سستے داموں خریدنے اور اسے زیادہ قیمتوں پر دوبارہ فروخت کرنے کے اسکینڈل کا ماسٹر مائنڈ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

عمران خان سے توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والا شخص سامنے آگیا، ہوشربا انکشافات

رپورٹ کے مطابق عمرفاروق ناروے میں اس لیے مطلوب تھا کیونکہ اس کے بارے میں پولیس کا خیال تھا کہ ایک امیر بیوہ کے اکاؤنٹ کو خالی کرنے کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے جس کو ناروے میں انتہائی بُرا سمجھا جاتا ہے، تاہم عمر فاروق کیس کا فیصلہ سنانے سے پہلے ہی وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔

علاوہ ازیں عمر فاروق سوئٹزرلینڈ میں جعلی بینک اکاؤنٹ بنانے کے جرم میں بھی مطلوب تھے لیکن اس کیس کی حد ختم ہوگئی تھی کیونکہ پولیس انھیں پکڑنے میں ناکام رہی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ظہور کو پاکستان سے اپنے بچوں کا اسمگل کرنے سے متعلق کیس کا بھی سامنا ہے۔

سپریم کورٹ کے معروف وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انکشاف کیا کہ ظہور کے بھائی عثمان ظہور اور اُن کے بہنوئی شیخ سلیم بھی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔

Related Posts