گزشتہ روز عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں نئی پیش رفت سامنے آئی، ایک نجی ٹی وی چینل پر دبئی کی کاروباری شخصیت عمرفاروق کا نام سامنے آیا جنہوں نے سعودی ولی عہد کی جانب سے سابق وزیراعظم کو ملنے والے تحائف خریدے تھے۔
عمر فاروق کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے سعودی ولی عہد سے ملنے والی قیمتی گھڑی دبئی میں فرح خان کے ذریعے بیچی، پانچ سے چھ ملین ڈالر کی گھڑی 2 لاکھ ڈالر میں فروخت کردی گئی، جس کی مالیت 2019 میں تقریباََ پاکستانی 280 لاکھ روپے تھی۔
واضح رہے کہ اس خبر کے ٹی وی پر آنے سے پہلے سوشل میڈیا صارفین نے قیاس آرائیاں شروع کردی تھیں کہ رات 10 بجے کیا نشر ہونے والا ہے۔
اس دوران جو ٹوئٹ سب سے زیادہ وائرل ہوئی وہ مرحوم صحافی ارشد شریف کی موت سے چند روز پہلے کی گئی ٹوئٹ تھی جس میں انہوں نے عمر فاروق ظہور کا نام لیا تھا، انہوں نے ٹوئٹ میں واضح کیا تھا کہ اُن کے پاس کچھ ایسی معلومات ہیں جو آنے والے دنوں میں خبروں کا حصہ بنیں گی۔
عمر فاروق ظہور جنہوں نے #FIA کے متعدد افسران کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں ایف آی آر کٹوائی، ان کے حوالے سے عالمی تحقیقاتی رپورٹ-
سوال تو بنتا ہے کہ FIA کے متعدد افسران کیا اس لئے زیر عتاب ہیں کہ انھوں نے #ڈگی_والی_سرکار اور جہانگیر ترین کی تحقیقات کیں؟https://t.co/K9nPZUjxM1— Arshad Sharif (@arsched) October 23, 2022
ارشد شریف نے ایک نیوز رپورٹ کا لنک بھی پوسٹ کیا تھاجس میں انہوں نے کورونا ویکسین اسپوتنک کی خریدوفروخت کے حوالے سے انکشافات کیے تھے، انہوں نے بتایا تھا کہ عمر فاروق نے اس ویکسین کو سستے داموں کو خرید کر گھانا، روس، پاکستان، گیانا اور عراق میں مہنگے داموں فروخت کیا تھا۔
نیوز رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستانی شہری عمر فاروق ظہور کا دبئی میں مقیم ایک شیخ کے ساتھ کئی سالوں سے گہرا تعلق تھا جو روسی اسپوتنک کورونا ویکسین کو سستے داموں خریدنے اور اسے زیادہ قیمتوں پر دوبارہ فروخت کرنے کے اسکینڈل کا ماسٹر مائنڈ تھا۔
عمران خان سے توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والا شخص سامنے آگیا، ہوشربا انکشافات
رپورٹ کے مطابق عمرفاروق ناروے میں اس لیے مطلوب تھا کیونکہ اس کے بارے میں پولیس کا خیال تھا کہ ایک امیر بیوہ کے اکاؤنٹ کو خالی کرنے کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے جس کو ناروے میں انتہائی بُرا سمجھا جاتا ہے، تاہم عمر فاروق کیس کا فیصلہ سنانے سے پہلے ہی وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔
علاوہ ازیں عمر فاروق سوئٹزرلینڈ میں جعلی بینک اکاؤنٹ بنانے کے جرم میں بھی مطلوب تھے لیکن اس کیس کی حد ختم ہوگئی تھی کیونکہ پولیس انھیں پکڑنے میں ناکام رہی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ظہور کو پاکستان سے اپنے بچوں کا اسمگل کرنے سے متعلق کیس کا بھی سامنا ہے۔
سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے عمر فاروق ظہور کے ساتھ ساتھ اسکا بھائی عثمان ظہور اور ان کا بہنوئی شیخ سلیم منی لانڈرنگ سمیت کئی جرائم میں ملوث ہیں— pic.twitter.com/VMtrLRHIs5
— M Azhar Siddique ???????????? (@AzharSiddique) November 15, 2022
سپریم کورٹ کے معروف وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انکشاف کیا کہ ظہور کے بھائی عثمان ظہور اور اُن کے بہنوئی شیخ سلیم بھی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








