پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو وطن واپسی سے قبل امریکا جانے کا مشورہ دیدیا گیا، دوسری طرف نواز شریف برطانوی ہوم آفس کو اپنے قیام میں توسیع کی درخواست واپس لیتے ہوئے فیملی کے ہمراہ یورپ روانہ ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد کو ان کے ڈاکٹرز نے مشورہ دیا ہے کہ وطن واپسی سے قبل علاج کے لیے امریکا جائیں۔ سابق وزیراعظم کی طرف سے اپنی پارٹی رہنماؤں کو شیڈول سے آگاہ کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:
تین سگے بھائیوں کا قاتل بھائی والدین کے معاف کرنے کے بعد مقدمے سے بری
ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو وطن واپسی سے قبل علاج مکمل کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کی شریانوں کا علاج امریکا سے کرایا جائے گا، ان کے امریکا جانے کے لئے فیملی کے سفارتخانے سے بھی رابطے کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف کو پاسپورٹ ملنے کے بعد امریکا جانے کی رائے دی گئی ہے، لیگی نائب صدر مریم نواز بھی والد کے ہمراہ امریکا کا دورہ کریں گی۔
ذرائع کے مطابق لیگی قائد کا امریکا سے واپسی پر برطانیہ میں بھی ایک آپریشن ہو گا، برطانیہ میں آپریشن کے بعد نواز شریف وطن واپسی کا ٹائم فریم دیں گے، نواز شریف اور مریم نواز اکھٹے پاکستان واپس آئیں گے۔
دوسری طرف میاں نواز شریف، مریم نواز اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ یورپ روانہ ہو گئے، شریف فیملی کے افراد دس دن یورپ کے مختلف ممالک میں چھٹیاں گزارنے کیلئے روانہ ہوگئے ہیں۔
اُدھر ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نے برطانوی ہوم آفس سے اپنی اپیل واپس لے لی ہے، یہ اپیل ہوم آفس میں زیر التوا تھی ابھی تک جج نے اپیل نہیں سنی، مختلف تاریخ دی جاتی رہی۔
یاد رہے کہ نواز شریف کی برطانیہ چھوڑے بغیر برطانیہ میں قیام میں توسیع کی درخواست ہوم آفس نے مسترد کردی تھی، انہوں نے اس فیصلے کے خلاف برطانوی ہوم آفس میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








