اسلام آباد: وفاقی شرعی عدالت نے ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن ایکٹ 2018 کے خلاف درخواست نمٹا دی ہے، مقدمے کی سماعت قائم مقام چیف جسٹس سیّد محمد انور کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔
تفصیلات کے مطابق پیر کے روز وفاقی شرعی عدالت نے ہاؤس بلڈنگ کارپوریشن ایکٹ 2018 کے خلاف درخواست نمٹائی۔ مقدمے کی سماعت چیف جسٹس سیّد محمد انور اور جسٹس خادم حسین ایم شیخ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔
ڈالر کی اونچی اُڑان، پاکستانی روپے کی قدر مزید کم ہوگئی
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ایچ بی ایف سی ایکٹ 2018 اسلام کے خلاف اور اسلامی اصولوں کے منافی قانون ہے جسے فوری طور پر کالعدم قرار دیا جانا چاہئے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ایچ بی ایف سی ایکٹ کو 1952 میں تخلیق کیا گیا جس کے تحت عوام کو استحصالی قرض دئیے گئے جو اسلام کے خلاف ہیں۔
وفاقی شرعی عدالت نے درخواست گزار کا مؤقف سننے کے بعد ریمارکس دئیے کہ متعلقہ قانون ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن ایکٹ 2018 منسوخ ہوچکا ہے، اسی بنیاد پر عدالت نے درخواست نمٹا دی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








