دوحا: ایران اور ویلز کے درمیان فیفا ورلڈکپ کے میچ کے دوران دو ایرانی خواتین کو اسٹیڈیم میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز ایران اور ویلز کے درمیان میچ کے آغاز سے قبل سیکورٹی اسٹاف نے ایک خاتون کو مہسا امینی کی شرٹ اور پرچم پر سیاسی، جارحانہ، یا امتیازی پیغامات کے باعث اسٹیڈیم میں داخلے سے روک دیا تھا۔
قطر ورلڈ کپ میچ دیکھنے آئی خاتون کو سٹیڈیم میں داخلے سے روک دیا گیا کیونکہ اس کی قمیض پر ایران میں ہلاک ہونے والی مہسا امینی کی تصویر کے ساتھ ‘عورت، زندگی، آزادی’ کے الفاظ لکھے تھے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس خاتون کو قمیض تبدیل کرنے کے بعد میچ میں داخلے کی اجازت مل گئی۔ pic.twitter.com/vBRcaKxFZ8
— VOA Urdu (@voaurdu) November 25, 2022
اسی طرح اسٹیڈیم میں موجود ایک خاتون اور مرد کو مہسا امینی کی شرٹ لانے اور پرچم پر خواتین کی آزادی کے نعرے درج ہونے پر اسٹیڈیم سے نکال دیا گیا۔
قبل ازیں اسٹیڈیم کے اندر ایک خاتون جس کی آنکھوں سے گہرے سرخ آنسو نکلے ہوئے تھے، فٹ بال کی جرسی کو اونچا تھامے ہوئے تھی جس کی پشت پر مہسا امینی کا نام درج تھا جبکہ مرد نے ایران کا جھنڈا تھام رکھا تھا جس پر امتیازی پیغامات لکھے تھے۔
واضح رہے کہ مہسا امینی کی دو ماہ کی پولیس حراست میں موت ہوئی تھی، جس کے بعد سے ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








