اسٹاک ہوم: امریکا، فرانس اور آسٹریا کے 3 سائنسدانوں جان ایف کلوزر، ایلین اسپیکٹ اور اینٹون زیلنگر نے کوانٹم انفارمیشن سائنس پر تحقیقی کام کیلئے رواں برس فزکس کا نوبل انعام جیت لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق فرانس کے ایلین اسپیکٹ، امریکا کے جان ایف کلوزر اور آسٹریا کے اینٹون زیلنگر نے کوانٹم انفارمیشن سائنس پر اپنے کام کیلئے 2022کا فزکس نوبل پرائز اپنے نام کر لیا جس کا اعلان رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے منگل کے روز کیا۔
لاک ڈاؤن نے بچوں سے دوست بنانے کی صلاحیت چھین لی۔ تحقیق
رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ نوبل انوام سائنسدانوں کے الجھے ہوئے فوٹونز کے ساتھ تجربات، بیل کی عدم مساوات کی خلاف ورزیوں اور کوانٹم انفارمیشن سائنس کے علمبردار کے طور پر دیا گیا ہے۔ ان کے نتائج سے نئی ٹیکنالوجی کی راہ ہموار ہوئی۔
فرانسیسی سائنسدان ایلین اسپیکٹ 1947 میں فرانس کے شہر اجیئن میں پیدا ہوئے اور پیرس سیکلے یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ امریکی سائنسدان جان ایف کلوزر امریکا میں جے ایف کلوزر اینڈ ایسوسی ایٹس میں ریسرچ فزیزسٹ ہیں۔
آسٹرین سائنسدان مسٹر زیلنگر ویانا یونیورسٹی میں بطور پروفیسر کام کر رہے ہیں۔ رواں برس نوبل پرائز کی انعامی رقم 10 لاکھ سویڈش کرونر (تقریباً 9 لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالرز) رکھی گئی ہے جو تینوں انعام یافتہ سائنسدانوں کے مابین یکساں طور پر تقسیم کردی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








