کراچی میں گندم اور آٹا روزانہ کی بنیاد پر مہنگا ہونے کے باعث قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچیں۔
کراچی میں تاریخ میں پہلی بار چکی کا آٹا 150، فائن 140 اور گندم 125 روپے فی کلو کی سطح پر جاپہنچی ہے جبکہ سرکار کی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی۔
چیئرمین کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن عبدالرؤف ابراہیم کا کہنا ہے کہ نئے سال کے صرف 4 دن میں گندم اور آٹے کی قیمت میں 20 روپے فی کلو کا ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے۔
ٹریڈرز کا کہنا ہے کہ فلارملز مالکان بیشتر آٹا افغانی ڈیلرز کو بیچ رہے ہیں جو انہیں آٹے کے منہ مانگے دام دیتے ہیں۔ چکی آٹا ڈیلر کے مطابق بلند ترین قیمت نے آٹے کی سیل پر بھی اثر ڈالا ہے۔۔خریدار معمول سے کم آٹا خرید رہے ہیں۔
فلارملز مالکان کا کہنا ہے کہ ضرورت سے کم گندم کے اسٹاک، سیلاب اور بروقت حکومتی اقدامات نہ لینے سمیت نئی فصل آنے میں دو ماہ باقی ہونے کے باعث آٹا کا بحران شدید ہورہا ہے۔
آٹے کی تجارت سے وابستہ تاجروں کا ماننا ہے کہ فلارملز مافیا کوٹے کی ہزاروں ٹن سستی گندم ہڑپ کر رہی ہے۔ 3 کروڑ آبادی کے شہر میں گنتی کے چند مقامات پر عوام کو رعایتی گندم کا سستا آٹا فروخت کرکے آٹا ملیں فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے خانہ پری کر رہے ہیں جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








