ہریانہ میں ہندو انتہا پسندوں نے تین مسلمان نوجوانوں کو تشدد کرکے ادھ موا کر دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارتی ریاست ہریانہ کے بھوانی میں دو مسلم نوجوان ناصر اور جنید کو گاڑی سمیت زندہ جلاکر مارنے کا معاملہ ابھی تھما بھی نہیں تھا کہ ہتھین میں بھی دو مختلف وارداتوں میں تین مسلم نوجوانوں کو شرپسندوں کے ہاتھوں مارنے پیٹنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

ہتھین میں دو الگ الگ جگہوں پر شدت پسندوں نے تین مسلم نوجوانوں کو بے رحمی سے مارا پیٹا ہے، جس میں تینوں نوجوان شدید طور پر زخمی ہوگئے ہیں، سبھی کا علاج جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

سجل علی کی انسٹاگرام پر دلہن کے روپ میں انٹری

اطلاعات کے مطابق ہتھین کے جاٹ اکثریتی علاقے مان پورہ میں جانور خریدنے گئے دو مسلم نوجوانوں کی کچھ لوگوں نے بے رحمی سے پٹائی کرنے کے علاوہ ان کے پاس موجود ۵۰ ہزار روپئے اور گھڑی چھین لی، زخمی حالت میں دونوں کو ہتھین کے سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج چل رہا ہے۔

دونوں نوجوانوں کی شناخت سلیم اور مجاہد کے طور پر ہوئی ہے، متاثرہ سلیم کے مطابق ہم جانور خریدنے بیچنے کا کام کرتے ہیں، ہم مان پورہ گائوں میں جانور خریدنے گئے تھے جیسے ہی ہم موجودہ سرپنج دیوی کے گھر پہنچے تو وہاں کھڑے تین لڑکے ہمارے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے پیٹنا شروع کردیا اور کلہاڑی سے بھی حملہ کیا۔

اس واقعے کی خبر ملتے ہی تھانہ انچارج دھرم چند اپنی ٹیم کے ساتھ اسپتال پہنچے اور متاثرین کا بیان درج کیا، پولس اہلکاروں نے اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اسی طرح کی دوسری شرپسندی کا واقعہ پلول کے ہتھین موڑ پر پیش آیا ہے، مروکھیڑا کے رہنے والے نادر کو کچھ لوگوں نے پکڑ کر بے رحمی سے ماارا پیٹا اور سڑک کنارے جھاڑیوں میں زخمی حالت میں پھینک دیا، نادر کو سنگین حالت میں دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، اہل خانہ کا الزام ہے کہ بجرنگ دل کے لوگوں نے مارپیٹ کی ہے۔

Related Posts