’نہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور نہ ہی اردو اُن کی زبان ہے‘ جاوید اختر کا ایک اور متنازع بیان

تازہ ترین

تازہ ترین

معروف بھارتی نغمہ نگار جاوید اختر نے کہا ہے کہ نہ تو کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور نہ ہی اردو اُن کی زبان ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق شاعری کے مجموعے ’شاعرانہ سرتاج‘ کی لانچنگ کی تقریب میں گفتگو کے دوران جاوید اختر کا کہنا تھا کہ ’یہ اُردو کسی اور جگہ سے نہیں آئی یہ بھارت کی ہی اپنی زبان ہے‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اُردو بھارت سے باہر نہیں بولی جاتی جبکہ پاکستان بھارت سے علیحدگی کے بعد وجود میں آیا ہے اور پاکستان بھی بھارت کا ہی حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

نیٹ فلکس پر 5 مقبول کورین ڈرامے جو آپ کو ضرور دیکھنے چاہئیں

جاوید اختر نے تقریب میں کے شرکاء سے سوال کیا کہ ’آپ نے اردو کو کیوں چھوڑ دیا ہے؟ بٹوارے کی وجہ سے، پاکستان کی وجہ سے؟ اردو کو توجہ دی جانی چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب کا اُردو کی فروغ میں بڑا ہاتھ ہے اور یہ بھارت کی اپنی زبان ہے۔

کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جاوید اختر نے شرکاء سے سوال کیا کہ پاکستان کہتا ہے کہ کشمیر اُن کا ہے تو کیا آپ مان لیں گے؟ بلکل اس ہی طرح اُردو بھی پاکستان کی نہیں بھارت کی زبان ہے اور رہے گی۔

یاد رہے کہ جاوید اختر گزشتہ ماہ فیض میلے میں شرکت کیلئے پاکستان آئے تھے جہاں گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان پر ممبئی حملوں کا الزام لگایا تھا جس پر عوام کا شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔

Related Posts