کراچی کی نجی فیکٹری میں بھگدڑ سے 12افراد جاں بحق، فیکٹری مالک گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی کی نجی فیکٹری میں زکوٰۃ اور راشن کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچنے سے 9 خواتین اور 3 بچوں سمیت 12افراد جاں بحق ہوئے، پولیس نے فیکٹری مالک کو گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 12 افراد کی اموات کا مقدمہ سائٹ اے تھانے میں سرکار کی مدعیہ میں درج کیا گیا ہے جس میں فیکٹری مالک اور 2 منیجرز سمیت 9 افراد کو نامزد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:

پشاور میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے سکھ دکاندار قتل

ایف آئی آر کے متن میں لاپرواہی اور غفلت کی دفعات شامل ہیں جبکہ فیکٹری انتظامیہ نے زکوٰۃ تقسیم کے متعلق پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو اطلاع نہیں دی۔

مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ  زکوٰۃ تقسیم کے دوران چوکیدار نے مین اور چھوٹا گیٹ کھول دیا جس سے خواتین اور بچے بھی اندر داخل ہو گئےجس کے بعد بھگدڑ مچی۔ واقعے کے 9 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

واقعے کی تفتیشی رپورٹ کے مطابق فیکٹری انتظامیہ نے این او سی حاصل نہیں کیا۔ زکوٰۃ کی تقسیم کے وقت فیکٹری میں ہجوم موجود تھا۔ بھگدڑ مچنے کے وقت فیکٹری کا گیٹ کھلا نہیں تھا۔ پانی بھی جمع ہوچکا تھا۔

خیال رہے کہ راشن کی تقسیم سے قبل ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی تقسیم کے دوران بھی بھگدڑ مچنے سے جانی نقصان ہوا۔ اے ڈی سی کیماڑی ون کی جانب سے فیکٹری میں بھگدڑ کی رپورٹ کمشنر کراچی کو ارسال کردی گئی۔ 

Related Posts