عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان بھر میں سوشل میڈیا کا بلیک آؤٹ جاری ہے جس پر کئی انٹرنیٹ صارفین ایک دوسرے سے وی پی این کے حوالے سے سوالات پوچھ رہے ہیں۔
انڈیپنڈینٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق وی پی این یا ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک ایک طرح کی سلیمانی ٹوپی ہے جو انٹرنیٹ صارفین کی لوکیشن کو چھپا دیتی ہے اور حکام کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس جگہ سے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
دشمن جو کام 75 برس میں نہ کرسکا، وہ ایک اقتدار پرست گروہ نے کر دکھایا، پاک فوج
یہی نہیں بلکہ صارفین وی پی این کی مدد سے ایک ملک میں بیٹھ کر اپنے آپ کو کسی اور ملک میں موجود ظاہر کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ پاکستان میں ہیں، لیکن وی پی این کی مدد سے خود کو برطانیہ، بیلجیئم یا کینیڈا، غرض کسی بھی ملک میں ظاہر کر سکتے ہیں۔
ایسا ہونے سے وہ اپنے ملک میں موجود کسی بھی قسم کی پابندی کو بائی پاس کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر پاکستان میں اس وقت ٹوئٹر اور فیس بک پر سرکاری سطح پر پابندی عائد ہے لیکن جب کوئی صارف وی پی این کے ذریعے ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرے تو وہ اس پابندی کو بائی پاس کر سکتا ہے۔
پاکستان میں وی پی این کے استعمال کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی سے سروس کو رجسٹر کروانا ضروری ہے اور غیر رجسٹرڈ وی پی این کو استعمال کرنا خلاف قانون ہے۔
عالمی سطح پر کئی کمپنیاں وی پی این سہولت مہیا کرتی ہیں جو صارفین مفت یا فیس ادا کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔
وی پی این کا ایک اور استعمال یوں کیا جاتا ہے کہ مثال کے طور پر نیٹ فلکس کے کچھ پروگرام امریکہ میں دیکھے جا سکتے ہیں مگر پاکستان میں نہیں۔
لوگ وی پی این کی مدد سے اپنے آپ کو امریکہ میں ظاہر کر کے یہ پروگرام دیکھ سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








