پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری کے بعد ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور آج بھی کہیں کہیں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
تحریک انصاف کے کارکنوں نے راولپنڈی، لاہور، کراچی، کوئٹہ اور خیبرپختونخوا کے کئی شہروں میں سٹرکیں بند کر دیں اور توڑ پھوڑ بھی کی۔
ان سب ہنگاموں میں تحریک انصاف کے پرچم اٹھائے ہوئے کارکن تو بڑی تعداد میں دکھائی دیے لیکن پی ٹی آئی کی قیادت خال خال ہی نظر آئی۔
جب عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کیا جا رہا تھا اس وقت ان کے ساتھ شبلی فراز، قاسم سوری، مسرت چیمہ، علی نواز اعوان اور خالد خورشید ان کے ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود تھے۔ فواد چوہدری کے بارے میں اطلاع ہے کہ اس وقت وہ کورٹ روم میں تھے۔
تاہم عمران خان کی گرفتاری کے وقت پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور شیریں مزاری عدالت میں نہیں دیکھے گئے۔ اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کے واقعے کے بعد ایک سے زائد مرتبہ میڈیا سے گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں:
دشمن جو کام 75 برس میں نہ کرسکا، وہ ایک اقتدار پرست گروہ نے کر دکھایا، پاک فوج
اس کے بعد اگلے روز بدھ کو اسد عمر کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔ ایک اہم بات یہ بھی تھی تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید جو عموماً عمران خان کی پر پیشی پر ان کے ساتھ نظر آتے تھے، وہ بھی منگل کو غائب تھے۔
راولپنڈی سے تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان اور تحریک انصاف کے اتحادی شیخ رشید احمد بھی مظاہرین کے درمیان کہیں دکھائی نہیں دیے۔ اسی طرح ڈاکٹر شہباز گل، زلفی بخاری اور اعظم خان سواتی بھی نہیں دیکھے گئے۔
کراچی میں شاہراہ فیصل پر پی ٹی آئی کے مظاہرین نے احتجاج کیا اور پولیس کی دو جبکہ رینجرز کی ایک چوکی کو نذرِ آتش کر دیا۔ کراچی میں ہونے والے مظاہروں میں تحریک انصاف کے نمایاں رہنماؤں سے کئی ایک غائب تھے۔ جو رہنما دکھائی نہیں دیے ان میں فردوس شمیم نقوی، سابق صدر پی ٹی آئی کراچی بلال غفار، پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان، راجہ اظہر، آفتاب جہانگیر اور آفتاب صدیقی کے نام شامل ہیں۔
منگل کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد لاہور میں پرتشدد احتجاج دیکھا گیا اور کارکنوں کی بڑی تعداد کورکمانڈر ہاؤس میں گھس کر توڑپھوڑ بھی کرتی رہی۔
لاہور کی قیادت کے نمایاں چہرے اس دوران منظر سے غائب تھے۔ پی ٹی آئی کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں اسلم اقبال اور حماد اظہر مظاہرین کے ساتھ نہیں تھے۔
زیادہ پرتشدد احتجاج خیبرپختخواہ کے ضلع سوات، دیر اور پشاور میں دیکھنے میں آئی جہاں مظاہرین نے سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔
یہاں بھی پرتشدد واقعات کے دوران تحریک انصاف کی قیادت میں شامل نمایاں افراد موجود نہیں تھے۔
منگل کو ہونے والے مظاہروں میں تحریک انصاف کے صوبائی صدر پرویز خٹک، اسد قیصر، سابق وزیراعلیٰ محمود خان، کامران بنگش، تیمور سلیم جھگڑا فرنٹ فٹ پر کہیں بھی نہیں تھے۔‘
سابق گورنر شاہ فرمان دیر سے احتجاجی مظاہرے میں آئے لیکن کارکنوں نے جب ان کے خلاف نعرے بازی کی تو وہ جلد ہی وہاں سے واپس چلے گئے۔
ادھر بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں بھی تحریک انصاف نے احتجاجی مظاہرے کیے جن میں صوبائی صدر ڈاکٹر منیر بلوچ اور جنرل سیکریٹری سالار کاکڑ موجود تھے۔
کوئٹہ میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں تحریک انصاف کے مذکورہ رہنماؤں کے علاوہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی یا وزراء میں سے کوئی نظر نہیں آیا۔ البتہ قاسم خان سوری اسلام آباد میں عمران خان کے ساتھ موجود تھے۔
پاکستان کے زیرِانتظام جموں کشمیر کے کسی بھی شہر میں تحریک انصاف نے کوئی بڑا احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا۔ دارالحکومت مظفرآباد میں سینٹرل پریس کلب کے سامنے 50 کے لگ بھگ کارکنوں نے کچھ دیر تک احتجاج کیا لیکن جلد ہی وہ وہاں سے چلے گئے۔
اس سے قبل پیر کی شب فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے عمران خان کے متعلق بیان کے بعد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سابق صدر نے ایک ویڈیو بیان میں عمران خان کے فوج سے متعلق بیانات کی مذمت کی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








