کراچی (م س) کراچی کے علاقے نادرن بائی پاس پر لگنے والی کیٹل منڈی 2023 آئندہ چند روز میں مکمل فعال کردی جائے گی، جس کیلئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کی 8 چوکیاں قائم کردی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اورسندھ کے دوردرازعلاقوں سے ابتک 10 ہزار سے زائد قربانی کے جانور منڈی کی زینت بن چکے ہیں۔ مال مویشی اور بیوپاریوں کو پانی اور جانوروں کے لیے چارے سمیت ہر مکمن سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔
نیب اختیارات کے غلط استعمال میں ملوث ہے۔چیف جسٹس
سات سو ایکڑ رقبے پر لگنے والی کیٹل منڈی میں 50 ایکڑ رقبہ گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مختص کیا گیا ہے، الیکٹرانکس اور پرنٹ میڈیا کے افراد کی رہنمائی کے لیے میڈیا سیل فعال کیا جاچکا ہے، منڈی آنے والے راستوں پر آٹھ چیک پوسٹ قائم دی گئیں۔
چیک پوسٹس پر رینجرز اور سیکورٹی کے الرٹ دستے تعینات کردیئے گئے، مویشی منڈی کے اطراف راستے پر بھی سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔ ترجمان کیٹل منڈی یاور رضا چاولہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز کے الرٹ دستے موبائل کے ساتھ تعینات کیے گئے ہیں۔ سکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔
مویشی منڈی نادرن بائی پاس جانے والے راستوں پر پولیس اور رینجرز کی 8 چوکیاں قائم کی جاچکی ہیں۔ کیٹل منڈی نادرن بائی جانے والے راستوں پر مشکوک افراد کو روک تلاشی لی جارہی ہے جبکہ اطراف کے راستوں پر مستقل نفری تعینات ہے۔
مویشی منڈی کے میڈیا سیل کے ترجمان یاور رضا چاؤلہ کا کہنا ہے کہ کیٹل منڈی نادرن بائی پر لگائے جانے کا فیصلہ ہونے سے قبل سیکورٹی اقدامات کو مد نطر رکھا گیا تھا، منڈی جانے والے راستوں پر 2 سال قبل ہی سیکورٹی پلان تیار کرلیا گیا تھا۔
ترجمان یاور رضا چاؤلہ نے کہا کہ کیٹل منڈی کی جانب جانے والے راستے شہریوں کی محفوظ گزرگاہ ہیں۔کیٹل منڈی کے اطراف مختلف شاہراہوں پر بڑے بڑے رہائشی منصوبے ہیں جہاں سے سیکڑوں افراد کا روزانہ کی بنیاد پر گزر ہوتا ہے اور انہیں بھی تحفظ حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ نادرن بائی پاس پر چھوٹی سے چھوٹی واردات کو کیٹل منڈی کے نزدیک بیان کرکے خبریں پھیلانے والے شہریوں کے خیر خواہ نہیں، شہری افواہوں پر وہ ہر گز کان نہ دھریں۔ کیٹل منڈی ایک محفوظ مقام پر لگائی گئی ہے اور اس کی سیکورٹی پر الگ سے ایس ایس پی کو تعینات کیا گیا ہے جو 24 گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں۔
یاوررضا چاولہ کا کہنا تھا کہ کیٹل منڈی آنے والے شہری بے خوف و خطر ہوکر آئیں۔ انہیں تحفظ حاصل ہے۔ رات کے آخری پہر بھی نوجوان، بچے موٹر سائیکل اور کاروں پر سوار ہوکر اپنی فیملی کے ہمراہ منڈی کا رخ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب، کے پی کے، بلوچستان اور سندھ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں بیوپاری اس وقت 10 ہزار سے زائد قربانی کے جانور لے کر بحفاظت مویشی منڈی پہنچ چکے ہیں اور قربانی کے جانوروں کی آمد کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
پارکنگ ایریا کی سیکورٹی اور روشنی کے لیے بڑے بڑے پولز پرہیوی لائٹس نصب ہیں، ترجمان یاوررضا چاولہ نے کہا کہ مویشی منڈی کے اندر آنے کے لیے ماہانہ کارفیس چھ ہزار، موٹرسائیکل کی ماہانہ فیس 3 ہزار 5 سو روپے رکھی گئی ہے۔ جبکہ پارکنگ ایریا میں کھڑی کی جانے والی گاڑیوں کے مختلف ریٹ مقرر ہیں۔
سوزوکی پارکنگ فیس 400 روپے، ہنڈائی، شہزور 500 روپے، ٹرک مزاد 6 سو روپے،آٹو رکشہ کے 250 روپے، موٹربائیک کی پارکنگ فیس 50 روپے اور موٹر کاروالوں سے پارکنگ فیس 100 روپے وصول کیے جائیں گے۔
صرف ماہانہ پاسز رکھنے والی گاڑیوں کو ہی کیٹل منڈی کے اندر آنے کی اجازت ہوگی اور متعلقہ نمبر پلیٹ کی گاڑی کو جاری کیا جانے والا پاس دوسری گاڑی پر چسپاں نہیں کیا جاسکے گا۔ گاڑی کے اندر ممنوعہ اشیاء اور اسلحہ لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
الیکٹرانکس اورپرنٹ میڈیا کے افراد کی انٹری فیس نہیں ہے۔ یاور رضا چاؤلہ نے کہا کہ میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے الگ سے انٹری گیٹ مختص کیا جارہا ہے۔ رپورٹرز، کیمرہ مین کے ساتھ آنے والی گاڑیوں اور ڈی ایس این جیز شناخت کراکر اندر کوریج کرنے کی اجازت ہوگی، کیٹل منڈی کے انٹری گیٹ پر میڈیا سیل قائم کرکے میڈیا کے افراد کی رہنمائی کے لیے الگ کاونٹر بنایا جارہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








