مینٹیننس آف پبلک آرڈر ایکٹ کے تحت پی ٹی آئی کے عہدیداروں شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری اور پارٹی کی سابق رکن ملیکہ بخاری کی گرفتاریوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے الگ الگ فیصلوں میں ”غیر قانونی” قرار دیا ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ضلعی مجسٹریٹ کے نظر بندی کے حکم کو ”قانون کی پاسداری نہ کرنے پر” ایک طرف کر دیا۔
عمران خان کی گرفتاری اور بعد ازاں ضمانت کے بعد سے پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور حامیوں کو حراست میں لیا گیا اور بعد میں رہا کر دیا گیا۔
رہائی کے بعد اسد عمر، فواد چوہدری، ڈاکٹر شیریں مزاری نے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ پارٹی سے علیحدگی کے اپنے فیصلے کا اعلان کرنے والے پی ٹی آئی کے تازہ ترین رکن علی زیدی اور عمران اسماعیل تھے۔
علی زیدی نے ہفتہ کو ایک ویڈیو بیان میں سیاست اور اپنی پارٹی کے عہدوں کو چھوڑنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
مزید پڑھیں:تحریکِ انصاف کے سابق رکنِ اسمبلی راجہ خرم نواز نے بھی پارٹی چھوڑ دی
انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ سیاست میں آنے کا ان کا بنیادی محرک پاکستان کو بہتر بنانے میں مدد کرنا تھا۔علی زیدی نے دعویٰ کیا کہ وہ پہلے ہی 9 مئی کے واقعات کی مذمت کر چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








