پانی غائب ہونے کا خدشہ، دنیا کی 50فیصد سے زائد بڑی بڑی جھیلیں خشک ہونے لگیں

تازہ ترین

تازہ ترین

نیو یارک: بڑھتے ہوئے عالمی درجۂ حرارت سمیت دیگر مسائل کے باعث دُنیا کی 50فیصد سے زائد بڑی بڑی جھیلیں خشک ہونے لگی ہیں، جن کا پانی مستقبل میں غائب ہوجانے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق دنیا کی نصف سے زیادہ بڑی جھیلیں پانی کی کمی کا سامنا کر رہی ہیں جس کی بنیادی وجہ موسمی تبدیلی اور انسانوں کی جانب سے پانی کا بے دریغ استعمال ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

سونے سے قبل سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے گریز کریں، تحقیق

سائنس نامی عالمی جریدے میں شائع کی گئی تحقیق میں جھیل کے پانی ذخیرہ کرنے کے رجحانات اور ان کی وجوہات کی نگرانی کیلئے ایک نیا طریقہ متعارف کرایا گیا ہے جو مقامی افراد کیلئے قیمتی بصیرت فراہم کرتا ہے۔

سائنسدانوں کی اس تحقیق میں کم و بیش 2000 جھیلوں اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں تبدیلیوں کا تجزیہ کیا یگا جو کہ عالمی جھیلوں کے پانی کے ذخیرے کا 95فیصد بنتا ہے۔ تحقیق کیلئے سٹیلائٹ اور ماڈلز کا استعمال کیا گیا۔

عالمی سطح پر کم و بیش 53 فیصد جھیلوں کے آبی ذخائر میں کمی کا مشاہدہ کیا گیا جبکہ قدرتی جھیلوں کے حجم میں عالمی کمی کا بنیادی محرک ماحولیاتی تبدیلی اور انسانوں کی جانب سے پانی کی حد سے زیادہ کھپت ہے جس سے 100بڑی جھیلیں متاثر ہوئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے قائم آبی ذخائر میں پانی کی کمی کی وجہ تلچھٹ بھی ہے۔ زیادہ تر جھیلوں میں سکڑاؤ کا عمل جاری ہے۔ 24 فیصد کے پانی کے ذخائر بڑھ بھی رہے ہیں جہاں آبادی کم ہے یا پھر وہ ذخائر نئے نئے قائم ہوئے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کم و بیش 2ارب لوگ خشک ہوتی ہوئی جھیلوں کے قریب بستے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر جھیلیں خشک ہوگئیں تو پانی کے پائیدار وسائل کے انتظام کیلئے دنیا کے متعدد ممالک کو شدید مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں۔

 

Related Posts