بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے آپ کیا کرسکتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

بچوں سے زیادتی
(فوٹو: دی ہندو)

بچوں سے زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ انسان اپنی پیدائش کے وقت بے حد معصوم اور خوبصورت ہوتا ہے، اور بعض بچے تو اتنے خوبصورت ہوتے ہیں کہ بڑوں کا ہمیشہ دل چاہتا ہے کہ ان کو اٹھائیں اور پیار کریں۔بڑے تو بڑے، بچے بھی اپنے ہی جیسے بچوں کو پسند کرتے ہیں۔

جنسی زیادتی ایک گھناؤنا جرم ہے تاہم جنوری 2018 میں قصور کی انتہائی کمسن بچی زینب کے اغوا اور قتل سے قبل کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ بد ترین جرم اتنے چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے یا پھر دنیا میں ایسے نفسیاتی مریض بھی ہیں جو ان بچوں سے زیادتی اور قتل ہوتے ہوئے ان کی ویڈیوز دیکھنا چاہتے ہیں۔

آج سے ایک سال قبل راولپنڈی کی ایڈیشنل سیشن کورٹ نے بچوں سے زیادتی کرنے اور ان کی فحش ویڈیوز بنانے کے ملزم سہیل ایاز کو ایک مقدمے میں بری کردیا تاہم دیگر مقدمات میں مجرم کی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا تھا۔

ملزم سہیل ایاز کے حق میں فیصلہ راولپنڈی کی عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج احسن محمود ملک نے جیل ٹرائل میں سنایا اور کہا کہ ایف آئی اے ملزم سہیل ایاز کے خلاف شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی ہے، جو قانون ساز ادارے کی بڑی ناکامی قرار دی جاسکتی ہے۔

قبل ازیں تھانہ روات کے ایک پورن ویڈیو کیس میں ملزم کو سزائے موت سنائی جا چکی تھی اور یہ سزا تاحال برقرار رکھی گئی تھی۔ مجرم معصوم اور کمسن بچوں کو بہلا پھسلا کر اور پیسوں کا لالچ دے کر اغوا کرتا تھا اور اپنے ڈیرے لے جایا کرتا تھا۔

اسی ڈیرے پر یہ انسانیت سے عاری اور بد خصلت ملزم بچوں کو جبری بداخلاقی کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی پورن ویڈیوز براہِ راست نشر کرتا تھا۔ اسی طرح کے بے شمار اور بھی مجرم موجود ہیں اور معاشرے میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ ان کو پکڑنے والا کوئی نہیں۔

تکلیف دہ بات یہ ہے کہ آج بھی بے شمار بچے ہمیں بغیر کسی قسم کے حفاظتی انتظامات یا بڑوں کی نگرانی کے اپنے ملک کے گلی محلوں میں کھیلتے اور ایک دوسرے سے اٹکھیلیاں کرتے مل جائیں گے جنہیں اس قسم کے گھناؤنے واقعات کا سامنا نہ ہوجائے، اس کیلئے ضروری ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

والدین کو یہ علم ہونا چاہئے کہ جو حفاظتی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں، وہ یہ ہیں کہ بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے  متعلق آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اجنبی افراد کے ساتھ بہتر طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے دوست اور دشمن میں تمیز کرسکیں اور کسی کے بھی کہنے پر اس کے ساتھ نہ چلے جائیں، کسی بھی قسم کی ناگہانی صورتحال کا احساس ہوتے ہی والدین کو بتادیں۔

والدین کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں کے معمولات پر نظر رکھی جائے اور اگر ہوسکے تو سی سی ٹی وی کیمرہ یا پھر موبائل ایپس کے ذریعے اس کا اہتمام کیا جائے کہ چھوٹے بچوں کو اجنبی لوگوں یا جرائم پیشہ افراد کی دست برد سے محفوظ رکھا جائے۔اسی طرح کی تدابیر سے بچوں کو بدترین جرائم سے بچایا جاسکتا ہے۔

بلاشبہ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ جو بچے پاکستانی قوم کھو چکی ہے، ان کو واپس تو نہیں لایا جاسکتا، تاہم ماہرین کی بتائی ہوئی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے مستقبل میں اس قسم کے گھناؤنے جرائم کا سدِ باب ممکن ہے اور اگر ہم یہ بھی نہیں کرسکتے تو ملک کے مستقبل کے تحفظ کی کیا ضمانت دی جاسکتی ہے؟

Related Posts