سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کراچی ایئر پورٹ پر انہیں اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کیے جانے کا ایک غیر معمولی واقعہ شیئر کیا ہے۔
سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصرنے جون میں کراچی سے دبئی جانا تھا جب انھیں حکام نے سفر کرنے سے روک دیا جس کے نتیجے میں وہ اپنی پرواز سے محروم ہوگئے۔
جبران ناصر نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام شیئر کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ 27 جون کو میری اہلیہ اور میں عید کیلئے اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے امارات EK601 کے ذریعے دبئی جانا تھا اور ہم نے 5 جولائی کو کراچی واپس جانا تھا۔ ہم نے اپنا سامان چیک کیا، بورڈنگ پاسز ملے، امیگریشن کلیئر کی اور ایگزٹ اسٹامپ حاصل کیے لیکن ڈیپارچر لاؤنج کے قریب پہنچتے ہی ہمیں ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے بلایا جو اپنے فون پر کسی سے ہدایات لے رہا تھا۔
On 27th June my wife and I were scheduled to travel to Dubai via Emirates EK601 to visit my Family for Eid and we were scheduled to return to Karachi on 5th July. We checked in our luggage, got boarding passes, cleared immigration and got the exit stamps but while approaching the… pic.twitter.com/P2Tyh9EwxH
— M. Jibran Nasir ???????? (@MJibranNasir) August 9, 2023
انہوں نے مزید لکھا کہ ایئرپورٹ پر موجود افسر نے ہمارے پاسپورٹ لیے اور کسی شخص کو فون پر ہمارے بارے میں بتایا، اس دوران ہماری پرواز چھوٹ گئی اور ہمارا سامان واپس آگیا۔ اس سب کی ہمیں کوئی وضاحت بھی نہیں دی گئی صرف یہی کہا گیا کہ ہمیں ہدایات ہیں کہ آپ کو جانے نہیں دینا ہے۔
جبران ناصر کے مطابق وہ 7 جون کے سفری پابندی کے واقعے کو ہراساں کرنے اور دھمکانے کیلئے اختیار کیے گئے غیر قانونی ہتھکنڈے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے اپنی پوسٹ کا اختتام کیا کہ نہ تو وہ انسانی حقوق کے کام اور سیاسی سرگرمی کو ترک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کا پاکستان سے باہر جانے کا کوئی ارادہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








