اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کا عمل شفاف طریقے سے مکمل کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
سپریم کورٹ میں سندھ کے ضلع شکار پور کے 3 صوبائی حلقوں میں حلقہ بندیوں کے خلاف کیس کی سماعت کی گئی، عدالت نے حلقہ بندیوں سے متعلق معاملہ الیکشن کمیشن کو واپس کردیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات کب کروائے گا؟ ڈی جی لاء نے جس پر اپنے کندھوں کو اچکایا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یعنی ابھی انتخابات کی کوئی تاریخ ہی طے نہیں ہوئی۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں عوامی مفاد کا معاملہ ہیں۔ سپریم کورٹ میں متعدد بار حلقہ بندیوں کا معاملہ آ چکا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حلقہ بندیوں میں ٹپے دار سرکل کو ذرا بھی متاثر کرنے سے حلقے سے امیدوار کو پڑنے والے ووٹ متاثر ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کا نمایاں خدمات پر ملکی و غیر ملکی شخصیات کو اعزازات دینے کا اعلان
چیف جسٹس عطا بندیال نے کہا کہ سندھ میں حلقہ بندیوں پر حساسیت زیادہ ہے۔ سندھ سے اکثر یہ گلہ کیا جاتا ہے کہ حلقہ بندیاں درست نہیں ہوئیں۔ انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن تمام معاملات کو حل کرے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








