لاہور: نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے تصدیق کی ہے کہ جڑانوالہ واقعے کے دونوں مرکزی ملزمان کو انسداد دہشت گردی فورس (سی ٹی ڈی) نے گرفتار کرلیا ہے۔
نگراں وزیراعلیٰ پنجاب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے پیغام میں بتایا کہ دونوں مرکزی ملزمان اب سی ٹی ڈی کی تحویل میں ہیں، بروقت اقدامات پر چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
Major breakthrough in the Jaranwala Incident – both main accused now in CTD Custody.
Appreciation for Chief Secretary Punjab and IG Punjab for their relentless efforts. Prime Minister’s unwavering concern guided us, driving the swift arrest process. Grateful for the trust he…— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) August 17, 2023
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی غیر متزلزل تشویش نے گرفتاری کے تیز عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ہماری رہنمائی کی اور ہماری ٹیم پر جو بھروسہ کیا گیا اس کے لیے شکرگزار ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے دونوں ملزمان کی شناخت عمیر سلیم عرف راجہ اور عمر سلیمان عرف روکی کے نام سے ہوئی، دونوں ملزمان آپس میں بھائی ہیں،عمیر سلیم عرف راجہ سرکاری ادارے میں درجہ چہارم کا ملازم ہے جبکہ عمر سلیمان عرف روکی ایک نجی ادارے میں ملازم ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزمان نے سانحے کے فوری بعد اپنی سم موبائل سے نکال کر توڑ دی تھی اور پھر وہ گوجرانوالہ سے فرار ہوگئے تھے۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر دونوں مرکزی نامزد ملزمان حراست میں لے لئے، جن سے تفتیش ہورہی ہے، تمام مسلمانوں کی طرح ہم بھی قرآن پاک کی بے حرمتی یا خدانخواستہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتے۔
خواتین کے واش روم میں خفیہ کیمرے نصب کرنیوالا ملزم گرفتار
انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد عوام کا غصہ جائز تھا، ہم ان علماء کرام کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے عوام کو اشتعال انگیزی سے روکے رکھا اور پورے پنجاب میں امن قائم رہا ۔ جہاں شرپسندوں نے بڑھ کر برے طریقے سے گرجا گھروں کو آگ لگائی ، مقدس مقامات کو خراب کیا ، ان کے گھروں کو ضائع کیا، ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ، یہ بھی اسلام میں قابل برداشت نہیں ہے۔ اللہ پاک اور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حکم ہے کہ ہم نے اقلیتوں کی حفاظت کرنی ہے۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمارا قانون بھی ہمیں اس بات کا حکم دیتا ہے کہ ان کی حفاظت ہم کرکے دکھائیں گے، جنہوں نے یہ کیا ہم ان تمام کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ہم نے ان کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا کہ 125 سے زائد افراد ہم نے اپنی ہیومن انٹیلی جنس، کمپیوٹر کے ساتھ ویڈیو کیمرے کی مدد اور دیگر طریقوں سے گرفتار کرلئے ہیں جن کو ہم قانون کے کٹہرے میں لائیں گے، میرا امن کا پیغام کل کیلئے ہے ، کل علماء مسجدوں میں یوم امن کی ضرور درخواست کریں۔ علماء لوگوں کو بتائیں کہ اقلیتوں کی کیسے حفاظت کرنی ہے۔
انہوں نے امن قائم کرنے پر علاقائی امن کمیٹی، عیسائی سمیت تمام مذاہب کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سب سے بڑھ کر ہم علما اسلام کے شکر گزار ہیں جنہوں نے واقعے کی مذمت کر کے پنجاب پولیس کا ساتھ دیا۔
آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور قرآن پاک کی بے حرمتی اور عیسائیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی دونوں واقعات کے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ بہت جلد یہ کرکے دکھائیں گے کیونکہ اللہ تعالٰی ہمارے ساتھ ہیں اور ہمارا حامی و ناصر ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








