پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ بجلی کے ہوشربا بلوں کی وجہ سے خیبر تا کراچی عوام دکھ اور غم کی تصویر بنے ہوئے ہیں، آنکھیں بند کرکے بجلی، گیس کے بل بڑھانے والوں کو نہ رحم آ رہا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی خوفِ خدا ہے۔
بجلی کا بلوں کی وجہ سے لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ بل ادا کرنے کیلئے کوئی کب تک بھیک مانگ سکتا ہے؟ ماہانہ 30 ہزار روپے کمانے والوں کو 20 سے 25 ہزار روپے کے بل آ رہے ہیں، لوگ فاقوں پر مجبور ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
اوور بلنگ سے پریشان ہیں؟ لیجئے بل کم کروانے کا فارمولا
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنے بچوں کو اسکولوں سے اٹھا رہے ہیں، کرایے کے گھروں میں رہنے والے ذہنی مریض بن گئے ہیں، انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ بل اور کرائے کیسے ادا کریں؟ کیا کبھی کسی اور ملک میں بھی ایسے ہوا ہے کہ ایک خاندان کی آمدن سے زیادہ اُسے بجلی، گیس کے بل آجائیں؟
انہوں نے کہا کہ یہاں سموسے اور چینی کی قیمتوں پر سوموٹو ایکشن ہوئے آج لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں مگر ہر طرف خاموشی ہے، سستی بجلی اب سہولت نہیں ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اس بنیادی حق کے تحفظ کیلئے چیف جسٹس سپریم کورٹ کب نوٹس لیں گے؟ غریب اپنا دکھ کس کو سنائے، جس دن یہ لاوا پھٹ گیا تو پھر کچھ نہیں بچے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس مہنگی بجلی کیساتھ کاروبار کرنا دور کی بات گھر کو روشن رکھنا بھی ناممکن ہو گیا ہے، نہ جانے کیا سوچ کر بربادی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 40 سال پاکستان پر حکومت کرنیوالوں نے اس ملک کے ساتھ وہ ظلم کیا کہ شاید دشمن نے بھی اس طرح ظلم نہ کیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی کے تحت ہائیڈل پاور منصوبے روکے گئے، ڈیمز کی تعمیر روکی گئی اور فرنس اور ڈیزل کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے دھڑا دھڑ منصوبے لگائے گئے، ہر منصوبے کے پیچھے ایک طاقتور خاندان نظر آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ طاقتور خاندانوں کو بجلی کا بل 30 ہزار کی بجائے 30 ہزار ڈالر کا بھی آجائے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، مسئلہ اس مزدور کا ہے جو ماہانہ بمشکل 30 ہزار روپیہ بھی نہیں کما پاتا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں سرکاری افسران اور اہلکار آج بھی مفت بجلی استعمال کر رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








