بلیک راک سٹی: نیواڈا میں جاری برننگ مین تہوار جس علاقے میں منعقد ہوتا ہے وہاں پر معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے صحرائی علاقہ کیچڑ اور دلدل میں تبدیل ہوگیا، یہی نہیں فیسٹیول میں شرکت کیلئے جانے والے 70،000 افراد پانی اور خوراک کی عدم فراہمی کی وجہ سے صحرا میں پھنس گئے۔
برننگ مین کے منتظمین نے پیر کے روز نیواڈا کے صحرائی سڑک کو دوبارہ کھول دیا، جس سےکیچڑ میں پھنسے ہوئے افراد کو کئی دنوں کے بعد علاقے سے نکلنے کا موقع ملا۔
منتظمین نے کہا کہ بلیک راک سٹی میں طوفان کی وجہ سے ڈرائیونگ پر پابندی عائد کردی گئی تھی جسے اب ہٹادیا گیا ہے۔ وہ افراد جو فیسٹیول کے دیوہیکل مجسموں کو دیکھنا چاہتے ہیں وہ ایک دن مزید ٹھہر کر اسے دیکھ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ طوفانی بارش نے سالانہ انسداد ثقافتی آرٹس میلے کو کیچڑ تبدیل کردیا اور اس کے نتیجے میں ایک شخص کی موت بھی ہوگئی جس کی تحقیقات جاری ہیں۔
برننگ مین کیا ہے؟
ہر سال برننگ مین میں ہزاروں لوگ نیواڈا کے صحرا میں رقص کرنے، آرٹ بنانے اور عارضی کمیونٹی کا حصہ بننے کیلئے اکٹھے ہوتے ہیں۔
1986 میں سان فرانسسکو کے ساحل پر ایک چھوٹے سے اجتماع کے طور پر شروع ہونے والے، ایک ہفتے تک چلنے والے اس میلے میں اب مشہور شخصیات اور سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے افراد شرکت کرتے ہیں اور اس کا باقاعدہ ٹکٹ بھی ہے جس کی قیمت $575 ہے۔
یہ میلہ بلیک راک سٹی میں منعقد کیا جاتا ہے، یہ ایک عارضی کمیونٹی ہے جو شمال مغربی نیواڈا میں بلیک راک صحرا کے وسط میں بنائی گئی ہے۔ اس کا مقام بڑے شہروں سے دور ہے اور رینو کے شمال میں تقریباً 227 کلومیٹر (141 میل) ہے۔
برننگ مین کے تہوار میں کیا ہوا؟
گزشتہ ہفتے جمعے کو تہوار کے مقام پر 13 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی جس سے تہوار میں خلل پیدا ہوا، کیونکہ اس علاقے میں اتنی زیادہ بارش پہلی مرتبہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
منتظمین نے لوگوں کو محفوظ کرنے کیلئے سڑکیں بلاک کردیں، جس سے 70،000 لوگ علاقے میں پھنس گئے اور یہاں پر پانی اور خوراک کی عدم فراہمی ہوگئی ۔
آخر کار پیر کے روز منتظمین نے اس سڑک کو دوبارہ کھولاجس سے علاقے میں پھنسی ہوئی تمام گاڑیاں ایک ساتھ نکلیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہوگیا یہی وجہ ہے کہ اب حکام ڈرائیورز پر گاڑیوں کی رفتار کو کم رکھنے پر زور دے رہے ہیں تاکہ ٹریفک جام نہ ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








