واشنگٹن: امریکا نے کہا ہے کہ پاکستان میں سائفر معاملے کا مستقل جائزہ لے رہے ہیں، تاہم اس پر بات نہیں کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان امریکی دفترِ خارجہ ویدانت پٹیل نے واشنگٹن میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دور میں سامنے آنے والے سائفر کے معاملے پر مستقل نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کیس کا فیصلہ محفوظ
بریفنگ کے دوران ترجمان امریکی دفترِ خارجہ نے کہا کہ ہم سائفر کے مخصوص معاملے پر بات نہیں کریں گے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کی کانگریس میں شراکت داروں پر کئی معاملات پر مشاورت معمول ہے۔
پاکستانی امریکیوں کے ویزے سے متعلق ترجمان امریکی دفترِ خارجہ ویدانت پٹیل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پاکستانی قونصلر سے تعلق رکھتا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
آج سے 2 سال قبل مارچ 2021 میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ایک جلسے میں کاغذ لہراتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکا کی طرف سے یہ سائفر موصول ہوا جس میں مجھے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانے کا کہا گیا ہے۔
بعد ازاں سائفر کے متعلق پاکستان کے سکیوٹی اداروں کی جانب سے سوالات کیے گئے تو عمران خان نے اعتراف کیا کہ ان سے سائفر گم ہوگیا ہے جس پر سابق وزیر اعظم کے خلاف سائفر گمشدگی کیس بھی درج کیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








