جامعہ الرشید میں طلبہ اور اساتذہ کیلئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ورکشاپ کا انعقاد

تازہ ترین

تازہ ترین

ملک کی معروف دینی درسگاہ جامعہ الرشید کراچی کے شعبہ کلیۃ الفنون کے زیرِ اہتمام آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے مختلف ٹولز مثلاً چیٹ جی پی ٹی، آٹو انڈسٹری، میڈیکل سائنس، ایمازون اسٹورز وغیرہ کے کام کرنے کے طریقوں پر طلباء کے آٹھ گروپس نے تفصیلی پریزنٹیشنز پیش کیں، جس میں کلیۃ الفنون کے طلباء کے علاوہ جامعہ کے اساتذہ نے بھی خصوصی شرکت کی۔

سیشن کے اختتام پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ کلیۃ الفنون کے کورسز انچارج سر عدنان منظور نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوئی نئی چیز نہیں ہے اس کا آغاز 1950 میں ہی ہوچکا تھا لیکن تہلکہ چیٹ جی پی ٹی کے آنے پر طوفان مچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:

برٹش کونسل کا امتحانی فیس کم کرنے کا فیصلہ

کیونکہ اس نے صرف 5 دن کے اندر ہی تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے زیادہ مقبولیت حاصل کرلی، اس کے متعارف ہونے کے بعد یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعے سے بہت سی نوکریاں چھن جائیں گی اور لوگ انسانوں کی بجائے مصنوعی انسانوں کو ہائیر کر لیں گے کیونکہ ان کے ذریعے سے کئے جانے والے کاموں میں غلطی کے امکانات بالکل نہیں ہوں گے۔
 انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انسان یا روبوٹ انسانوں کی نوکریاں نہیں چھینیں گے بلکہ وہ لوگ نوکریاں چھین لیں گے جو ان آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال بہتر طریقے سے سیکھ جائیں گے۔
 انہوں نے کہا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی دور میں کمپیوٹر متعارف ہوا تھا اور اس کی وجہ سے ان لوگوں کی نوکریاں چھن گئیں جو کمپیوٹر سے ناواقف رہے یا کمپیوٹر نے ان لوگوں کی جگہ لے لی، لیکن وہ لوگ نوکریاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جنہوں نے وقت کی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کمپیوٹر کو سیکھ لیا، لہذااب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقت کی اہمیت کو سمجھیں اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی چیٹ جی پی ٹی کے فارمپٹ کو حتی الوسع سیکھ لیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس پلیٹ فارم کے ذریعے وسیع پیمانے پر اسلامی معلومات بھی حاصل کرسکتے ہیں لیکن ابھی اس میں کافی حد تک غلطیوں کے امکانات ہیں جسے جلد از جلد بہتر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ علماءِ کرام اس پر زیادہ سے زیادہ اسلامی معلومات سرچ کریں اور جب یہ غلط معلومات فراہم کرے تو اہلِ علم اِس کو غلطی سے آگاہ کر دیا کریں تو بہت جلد یہ درست معلومات فراہم کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

Related Posts