انتہا پسند اسرائیلی وزیر کا غزہ پر قیامت ڈھانے کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے غزہ میں قیامت برپا کرنے کا اعلان کر دیا ہے، دوسری طرف غزہ کے تمام اسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے ہیں، جبکہ دوائیں ختم ہونے کے قریب ہیں۔

العربیہ کے مطابق انتہاپسند وزیر نے حماس کے حملے کا نشانہ بننے والی اسرائیل کی سدیروت کالونی کے دورے کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں بسنے والے تمام یہودی آباد کاروں کو اسلحہ سے لیس کریں گے۔

اس موقع پر یہودی آباد کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بن گویر نے جوش انتقام میں اندھا ہوکر اعلان کیا کہ غزہ پر قیامت ڈھانے کا وقت آگیا ہے۔

جہاد کشمیر سے منسلک ایک اور شخص پر اسرار انداز میں قتل

دریں اثنا غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے انڈر سیکرٹری یوسف ابو الریش نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کے تمام اسپتالوں کے بستر بھر گئے ہیں۔

ابو الریش نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ادویات اور طبی سامان بھی کم ہو رہا ہے۔

وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 1055 ہو گئی ہے اور 5148 زخمی ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید اور زخمی ہونے والوں میں 60 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔

غزہ کے سرکاری انفارمیشن آفس کے سربراہ سلامہ معروف نے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کی رات صبح تک بمباری جاری رہی جس میں درجنوں رہائشی عمارتوں، فیکٹریوں، مساجد اور دکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے رات بھر حماس کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

سلامہ معروف نے کہا کہ غزہ کی پٹی کو انسانی المیے کا سامنا ہے۔ ایندھن کی کمی کی وجہ سے پاور پلانٹ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق صورتحال اتنی بدتر ہوگئی ہے کہ زندگی کی تمام بنیادی خدمات کی فراہمی جاری رکھنا ناممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے زیرانتظام حکومت نے عالمی برادری اور انسانی اور امدادی تنظیموں سے ہنگامی اپیل کی ہے تاکہ انسانی المیے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکیں۔

Related Posts