ماضی میں کشمیر کی عسکری و جہادی تحریک سے منسلک رہنے والے ایک اور شخص کو ڈسکہ شہر میں گولی مار دی گئی۔
سیالکوٹ کے مقامی صحافیوں کے مطابق مقتول شاہد لطیف کا ماضی میں کالعدم جیش محمد سے تعلق رہا ہے اور گزشتہ دنوں تھریٹ الرٹ کے بعد انہیں سیکورٹی گارڈ بھی فراہم کیا گیا تھا تاہم آج بدھ کی صبح نماز فجر کے وقت انہیں گارڈ سمیت مسجد میں گولیاں ماری گئیں۔
مقتول شاہد لطیف کے متعلق یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ وہ ماضی میں کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود ازہر کے سیکورٹی گارڈ بھی رہ چکے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ شاہد لطیف کے قتل کے لیے طریقہ کار بالکل وہی اختیار کیا گیا جو گزشتہ مہینے راولاکوٹ آزاد کشمیر میں کالعدم لشکر طیبہ کے ابو القاسم نامی رکن کو قتل کرنے کے لیے اپنایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ چند ماہ کے دوران کشمیر کی عسکری تحریک سے تعلق رکھنے والا یہ چھٹا شخص تھا، جسے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








