فلسطین میں کشیدگی اسرائیلی مظالم کا نتیجہ، بمباری روک دی جائے، پاکستان

تازہ ترین

تازہ ترین

  وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے پر زور، جبکہ غزہ سمیت فلسطینی علاقوں پر جاری وحشیانہ بمباری فوری روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آج نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد نگراں وزیر اطلاعات ونشریات مرتضیٰ سولنگی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں فلسطین کے مسئلے پر بات چیت ہوئی، کابینہ نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔

اسرائیلی خاتون رکن پارلیمان کا فلسطینیوں کیخلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا مطالبہ

کابینہ نے مطالبہ کیا کہ فلسطین کی 1967ء سے پہلے کی حیثیت کو بحال کیا جائے۔ کابینہ نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نہتے فلسطینیوں بالخصوص شہری آبادیوں پر بمباری کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے گھیراﺅ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گھمبیر صورتحال بالخصوص خوراک اور پانی کی قلت جیسے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔

کابینہ نے زور دیا کہ مقبوضہ فلسطین میں حالیہ کشیدگی اسرائیل کی جانب سے سات دہائیوں پر محیط ناجائز قبضے، نہتے فلسطینیوں پر ظلم اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔

کابینہ نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر جاری بمباری فوری روک دی جائے اور غزہ کے ناجائز محاصرے کو ختم کر کے متاثرین تک بین الاقوامی امداد پہنچنے دی جائے۔ کابینہ نے حکومت پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ فلسطین کو فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے مطالبہ کیا کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جس کی سرحدیں1967ء کے اسرائیل کےغاصبانہ قبضے سے پہلے کے مطابق ہوں اور اس کا دار الخلافہ القدس الشریف ہو۔ کابیینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غزہ کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں کا حصہ ہوگا۔

Related Posts