انسانیت سوز حرکت “زارا” کو مہنگی پڑگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

انٹرنیشنل فیشن برانڈ زارا کی جانب سے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کی شہادتوں کا مذاق اڑانے پر امریکا میں ہزاروں افراد نے آؤٹ لیٹ کے باہر کپڑے پھینک دیے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں مہنگے ترین فیشن برانڈ کے کپڑے سڑک پر پڑے ہیں۔

اسرائیل کا بائیکاٹ، اسٹار بکس کو کتنے ارب کا نقصان برداشت کرنا پڑا؟

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر معروف فیشن برانڈ زارا نے ایک اشتہاری مہم چلائی تھی جس میں اسرائیلی جارحیت میں شہید فلسطینیوں کا مذاق اڑایا گیا تھا، فوٹو شوٹ میں ماڈل نے سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی لاش کا مجسمہ اپنے کندھے پر اُٹھایا ہوا تھا۔

تبصرہ نگاروں نے ان اشتہارات پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اشہتاری تصاویر سفید کفنوں میں ڈھکے ہوئے غزہ میں اجتماعی قبروں میں مرنے والوں کی تصاویر سے مشابہت رکھتی ہیں۔

فیشن برانڈ کی اشہاری تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو بائیکاٹ مہم زور پکڑ گئی اور دنیا بھر میں فلسطین کے حمایتی افراد نے برانڈ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔

شدید احتجاج اور بائیکاٹ کے بعد گزشتہ روز انٹرنیشنل برانڈ نے معذرت کی جبکہ اشتہاری مہم کو اپنی آفیشل ویب سائٹ سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے بھی ڈیلیٹ کردیا۔

Related Posts