ملکی ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 13.4فیصد اضافہ

تازہ ترین

تازہ ترین

ملکی ترسیلاتِ زر
آئندہ برس تک پاکستان میں ڈیجیٹل بینک فعال ہوجائیں گے۔اسٹیٹ بینک

سمندر پارپاکستانیوں کی جانب سے ملکی ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر 13اعشاریہ 4فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملک کو ارسال ترسیلاتِ زر کے حجم میں بڑا اضافہ سامنے آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اعدادوشمار جاری کردئیے۔

[visual-link-preview encoded=”eyJ0eXBlIjoiaW50ZXJuYWwiLCJwb3N0IjoxNzQzMjMsInBvc3RfbGFiZWwiOiJQb3N0IDE3NDMyMyAtINis2YjZhNin2KbbjCDaqduSINmF2YLYp9io2YTbkiDYp9qv2LPYqiDZhduM2rog2KrYsdiz24zZhNin2Kog2LLYsSDZhduM2rog2KfYttin2YHbgSDYsduM2qnYp9ix2ogiLCJ1cmwiOiIiLCJpbWFnZV9pZCI6MTUyODg1LCJpbWFnZV91cmwiOiJodHRwczovL21tbmV3cy50di91cmR1L3dwLWNvbnRlbnQvdXBsb2Fkcy8yMDIzLzAyL0RvbGxhci0xLTMwMHgyNTAuanBnIiwidGl0bGUiOiLYrNmI2YTYp9im24wg2qnbkiDZhdmC2KfYqNmE25Ig2Kfar9iz2Kog2YXbjNq6INiq2LHYs9uM2YTYp9iqINiy2LEg2YXbjNq6INin2LbYp9mB24Eg2LHbjNqp2KfYsdqIIiwic3VtbWFyeSI6ItmE2KfbgdmI2LE6INis2YjZhNin2KbbjCDaqduSINmF2YLYp9io2YTbkiDYp9qv2LPYqiDaqduSINmF24HbjNmG25Ig2YXbjNq6INiq2LHYs9uM2YTYp9iqINiy2LEg2YXbjNq6INin2LbYp9mB24Eg2LHbjNqp2KfYsdqIINqp24zYpyDar9uM2Kcg24HbktiMINqv2LLYtNiq24Eg2YXYp9uBINiq2LHYs9uM2YTYp9iqINiy2LEg2YXbjNq6IDMg2KfYudi02KfYsduM24EgMSDZgduM2LXYryDYp9i22KfZgduBINuB2YjYpyDbgduS25QgIiwidGVtcGxhdGUiOiJzcG90bGlnaHQifQ==”]

دسمبرکے دوران ترسیلاتِ زر میں 13.4فیصد اضافے سے ترسیلات کا حجم 2 ارب 38 کروڑ 15 لاکھ ڈالرز تک جا پہنچا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ نومبر کے بعد ترسیلات میں اضافے کی شرح 5.4فیصد رہی۔

پاکستان کو دسمبر 2022 میں 2.1ارب ڈالرز جبکہ گزشتہ ماہ 2ارب 25 کروڑ 85 لاکھ ڈالرز کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔ رواں مالی سال 24-2023 کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران ترسیلات میں 6.82فیصد کمی ہوئی تھی۔

ابتدائی 6 ماہ میں ترسیلات کا حجم 13 ارب 43 کروڑ 47 لاکھ ڈالرزجبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 14 ارب 41 کروڑ 76لاکھ ڈالرز رہا۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ دسمبرکے دوران سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے موصول ہوئیں۔

اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب سے موصول ترسیلاتِ زر کا حجم 57 کروڑ 76 لاکھ ڈالرز رہا۔ متحدہ عرب امارات سے 41 کروڑ 92 لاکھ جبکہ برطانیہ سے 36 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کی ترسیلات موصول ہوئیں۔ 

Related Posts