اردو کے نامور شاعر منور رانا دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر 71سال تھی۔ بھارتی شاعر نے پاکستان سمیت اردو زبان سمجھنے والے ہر ملک کے شائقینِ ادب سے داد وصول کی۔
تفصیلات کے مطابق عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا گزشتہ 7 روز سے لکھنؤ کے سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں زیرِ علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔ انہیں دل اور گردے کے امراض کے علاوہ گلے کا کینسر بھی تھا۔
[visual-link-preview encoded=”eyJ0eXBlIjoiaW50ZXJuYWwiLCJwb3N0IjoxNDk1NzksInBvc3RfbGFiZWwiOiJQb3N0IDE0OTU3OSAtINin2LHYr9mIINqp25Ig2YbYp9mF2YjYsSDYp9mI2LEg2KjYp9qp2YXYp9mEINi02KfYudixINin2K3ZhdivINmB2LHYp9iyINqp2KcgOTPZiNin2rog24zZiNmF2ZAg2b7bjNiv2KfYpti0IiwidXJsIjoiIiwiaW1hZ2VfaWQiOjE0OTU4MywiaW1hZ2VfdXJsIjoiaHR0cHM6Ly9tbW5ld3MudHYvdXJkdS93cC1jb250ZW50L3VwbG9hZHMvMjAyMy8wMS9BaG1lZC1GYXJhei1jb3B5LTMwMHgyNTAuanBnIiwidGl0bGUiOiLYp9ix2K/ZiCDaqduSINmG2KfZhdmI2LEg2KfZiNixINio2KfaqdmF2KfZhCDYtNin2LnYsSDYp9it2YXYryDZgdix2KfYsiDaqdinIDkz2YjYp9q6INuM2YjZhdmQINm+24zYr9in2KbYtCIsInN1bW1hcnkiOiLYp9ix2K/ZiCDYstio2KfZhiDaqduSINmG2KfZhdmI2LEg2KfZiNixINio2KfaqdmF2KfZhCDYtNin2LnYsSDYp9it2YXYryDZgdix2KfYsiDaqdinINuM2YjZhdmQINm+24zYr9in2KbYtCDYotisINmF2YbYp9uM2Kcg2KzYp9ix24HYpyDbgduS2Iwg2YHYsdin2LIg2qnYpyDZhtin2YUg2YXYsdiy2Kcg2LrYp9mE2KjYjCDYudmE2KfZhduBINin2YLYqNin2YQg2KfZiNixINmB24zYtiDYp9it2YXYryDZgduM2LYg2KzbjNiz25Ig2KjakduSINi02LnYsdinINqp25Ig2LPYp9iq2r4g2YTbjNinINis2KfYqtinINuB25LblCIsInRlbXBsYXRlIjoic3BvdGxpZ2h0In0=”]
نامور شاعر منور رانا شاعری کیلئے سادہ زبان کو اپنا کر عوام میں مقبولیت حاصل کر رہے تھے۔ ان کی تاریخ پیدائش 26نومبر 1952 اور جنم بھومی بھارت کا تاریخی شہر رائے بریلی ہے۔ بعد ازاں منور رانا کے اہلِ خانہ کولکتہ منتقل ہو گئے تھے۔
مشاعروں کی جان کہلانے والے منور رانا نے ماں کے رشتے، زندگی، موت اور محبت سمیت بے شمار انسانی جذبات کو زبان عطا کی اور عوامی سطح پر بے حد مقبول اور کامیاب رہے۔ ان کی نظم مہاجر نامہ کو برصغیر کی تاریخ کے اعتبار سے خاص شہرت ملی۔
منور رانا کی شاعری کی خوبصورتی اس کا بے ساختہ پن اور موضوعات کی سادگی و سنجیدگی ہے۔ اور اکثر و بیشتر نظموں کے علاوہ غزلیات میں بھی منور رانا نے مہاجر قوم کا دکھ کھل کر بیان کرتے ہوئے ماں کے رشتے کو بھی سلام پیش کیا:
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دُکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا، مرے حصے میں ماں آئی
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے، ماں دیکھی ہے
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
ایک آنسو بھی حکومت کیلئے خطرہ ہے
تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








