نگراں حکومت کی ایران سے گوادر تک گیس پائپ لائن کی تعمیر کی منظوری

تازہ ترین

تازہ ترین

government approves construction of gas pipeline from Iran to Gwadar

سلام آباد: نگراں حکومت نے ملک میں توانائی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ایرانی سرحد سے گوادر تک گیس پائپ لائن کی تعمیر کی منظوری دیدی ہے۔

یہ منظوری ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد کی جانب ایک قدم ہے جس میں 2013 سے طویل عرصے سے تاخیر ہورہی ہے۔

کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی منظوری کے بعد نگراں کابینہ نے 81 کلو میٹر گیس پائپ لائن کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے فیصلے کی توثیق کی۔

اس منصوبے سے ایران سے گوادر تک 750 ملین کیوبک فٹ گیس کی نقل و حمل سے معاشی مسائل سے دوچار پاکستان کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد کا ایک سستا متبادل ملے گا۔

کابینہ کی طرف سے منظوری سے پاکستان کو منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ سے 18 بلین ڈالر کے ممکنہ جرمانے سے بچانے کی بھی توقع ہے۔ اس سے ایران سے زیادہ سستی شرح پر گیس کی خریداری کے ذریعے پاکستان کے لیے خاطر خواہ سالانہ بچت ہو گی۔

یاد رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر پابندیوں کی دھمکی کے باوجود پاکستان نے گیس پائپ لائن منصوبے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان پائپ لائن منصوبے کے لیے پابندیوں کو نظرانداز کرنے کے لیے قانونی اور سفارتی کوششوں پر بھی کام کر رہا ہے۔

دریں اثناسبکدوش وفاقی کابینہ نے پاکستان کی حدود میں گیس پائپ لائن منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کی بھی منظوری دے دی ہے۔ 158 ملین ڈالر کی تخمینہ لاگت کے ساتھ، پائپ لائن کے 81 کلومیٹر حصے کی تعمیر جلد شروع ہونے والی ہے۔

Related Posts