بھارتی میڈیا نے پاکستانی خاتون پر حساس معلومات کیلئے بھارتی بحریہ کے افسر کو پھانسنے کا الزام لگایا ہے، تاہم ہمسایہ ملک کی پولیس مبینہ جاسوس خاتون کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔
اس حوالے سے شائع کردہ بھارتی میڈیا (نیوز18) کے ایک دعوے کے مطابق ممبئی کے علاقے میں پاکستانی خاتون نے بھارتی ڈاکیارڈ ورکر کو ”ہنی ٹریپ“ کیا اور بھارتی ڈاکیارڈ کی خفیہ معلومات پاکستان تک پہنچانے کی کوشش کی تاہم اے ٹی ایس نے بھارتی بحریہ کے 31سالہ افسر کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا جس پر پاکستان میں مقیم خفیہ آپریٹر (جاسوس خاتون) کو حساس معلومات دیں۔
نیوز 18 کا دعویٰ ہے کہ گرفتار افسر اسٹرکچرل فیبریکیٹر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہا تھا جسے بلیک میل کرکے حساس معلومات لی گئیں۔ خاتون نے ملزم سے سوشل میڈیا پر دوستی کی اور ڈاکیارڈ کے متعلق معلومات دینے کے عوض ادائیگی بھی کی گئی۔ اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ ہمیں بھارتی مشتبہ شخص کے خفیہ آپریٹر کو حساس معلومات فراہم کرنے کی اطلاع ملی تھی جس پر گرفتاری ہوئی۔
گرفتار افسر سے تفتیش بھی کی گئی۔ نیوز 18 کا دعویٰ ہے کہ ملزم سے اے ٹی ایس کی پوچھ گچھ کے دوران یہ پتہ چلا کہ ملزم نے پی آئی او سے فیس بک اور واٹس ایپ اکاؤنٹس پر چیٹنگ کی۔ ملزم کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ جرم کے نتیجے میں بھارتی آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ملزم کو کم از کم 3سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید تک سزا ہوگی۔
دعویٰ سچا یا جھوٹا؟
پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت کی جانب سے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے خلاف یہ دعوے نئے نہیں ہیں۔ آئے روز پاک بھارت سرحد غلطی سے عبور کر جانے والے پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرکے آئی ایس آئی ایجنٹ قرار دے کر جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ بھارتی بحریہ کے افسر کی گرفتاری بھی ایک ایسا ہی بے بنیاد دعویٰ ہے۔ تاحال پاکستان کی جانب سے اس کا ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








