اسلام آباد: وزیرا عظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ وزیراعظم نے مہنگائی پر قابو پانے کو اپنی اوّلین ترجیح قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں جبکہ اشرافیہ سبسڈیز حاصل کر رہی ہے۔ مٹھی بھر اشرافیہ ملک کے 90فیصد وسائل پر قبضہ کرچکی ہے۔ ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس محصولات سے 3 گنا رقم جیبوں میں چلی جاتی ہے۔ہم نے ایماندار افسران کو سلوٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ریٹیلر پر ٹیکس کی باتیں تو کی جاتی ہیں، ہول سیلر پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا۔ تنخواہوں کی ادائیگی قرض سے ہوتی ہے۔ غربت، مہنگائی، کرپشن اور بے روزگاری کے خلاف جنگ کے راستے میں ہمالیہ نما چیلنجز ہیں۔ ہمیں قوم کی خدمت کیلئے اقتدار میں لایا گیا۔ حکومت شبانہ روز محنت کرے گی۔
گفتگو کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ناقابلِ قبول ہے۔ معاشی بحالی ہمارا اوّلین ایجنڈا ہے، ٹیکس چوری میں ملوث افراد کو نہیں چھوڑیں گے۔ ٹیکس کی بجائے ٹیکس بیس میں اضافہ ہوگا۔ رمضان کے دوران اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کنٹرول کرنا حکومت کیلئے سب سے بڑا امتحان ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








