وزیر اعظم شہباز شریف نے اتحادی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنے کے بعد جمعرات کو انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے نئے چیئرمین کی تقرری کے لیے گزشتہ روز جاری کردہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔
قبل ازیں وزیر اعظم نے ایک سمری میں فراہم کردہ فہرست سے ایک بائیسویں گریڈ کے ریٹائرڈ وفاقی افسر کو اِرسا کے چیئرمین کے طور پر تعینات کرنے کا اعلان کیا، تاہم پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی مخالفت کے جواب میں وزیراعظم نے نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔
عموماً ارسا کے چیئرمین کا عہدہ صوبوں کے درمیان گھومتا ہے۔ تاہم شہباز شریف حکومت نے ایک ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹری ظفر محمود کو اس عہدے پر تعینات کرنے کے لیے ایک آرڈیننس کا استعمال کیا۔ نیا آرڈیننس روٹیشنل پالیسی کو وائس چیئرمین پر منتقل کر دیتا ہے
وزیر اعظم کی جانب سے مقرر کردہ چیئرمین فیصلہ کن اختیارات کے حامل ہوتے ہیں۔اگرچہ ظفر محمود کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جاچکا ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آرڈیننس کس طریقے سے جاری ہوا؟ ابتدائی طور پر صدر عارف علوی نے آرڈیننس مسترد کردیاتھا۔
آرڈیننس مسترد کیے جانے کے بعد مقررہ مدت کے بعد قانون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ظفر محمود کو ارسا کا چیئرمین لگائے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے 22ویں گریڈ کے ریٹائرڈ ملازم کو متنازعہ شخصیت قرار دیا جو 2 کتب بھی لکھ چکے ہیں۔
جمعرات کے روز صوبائی وزیر جام خان شورو کا کہنا تھا کہ ”وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو یقین دلایا ہے کہ ارسا کے چیئرمین کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن منسوخ کردیا جائے گا“ اور بظاہر یہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی فتح ہے جو وفاقی حکومت کے مقابلے میں ہوئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








