اسلام آباد: قومی ائیر لائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے معاملے پر حکومتی اتحادی آمنے سامنے آگئے، مسلم لیگ (ن) کا ماننا ہے کہ نجکاری ضروری ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پی آئی اے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے منافع بخش ادارہ بنایاجاسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام (جرگہ، جیو نیوز) میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت قومی ائیر لائن کی نجکاری کا ٹینڈر مئی میں مکمل کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ مکمل کریں گے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی نجکاری کے عمل کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا کام بزنس چلانے کی بجائے پالیسی سازی ہے، ارادے پختہ ہوں تو ہر چیز ممکن ہے۔ نجکاری ضروری ہے جس میں سرِ فہرست پی آئی اے ہوگی۔
دوسری جانب سینئر رہنما پیپلز پارٹی شیری رحمان کا قومی ائیر لائن کی نجکاری کے سرکاری فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ پی آئی اے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ٹھیک کی جاسکتی ہے اور اسی طرح اس ادارے کو منافع بخش بنایا جاسکتا ہے۔
پی آئی اے کا بھاری بھرکم خسارہ
اکتوبر 2023 میں سامنے آنے والی ایک پیشرفت کے مطابق قومی ائیر لائن کے 713ارب روپے کے خسارے میں سے 265ارب روپے کے قرض پر حکومت گارنٹی دے چکی ہے۔ 22 ارب کے قرضے پی آئی اے نے اپنے اثاثہ جات گروی رکھ کر حاصل کیے جبکہ 150ارب روپے مختلف ادوار میں حکومت کی جانب سے پی آئی اے کو دئیے گئے تاکہ ادارے کا توازن برقرار رہ سکے۔
گزشتہ برس اکتوبر تک کے اعدادوشمار کے مطابق پی آئی اے کا ماہانہ خسارہ 12.77ارب روپے تھا اور سالانہ اس رقم کا تخمینہ 156ارب روپے لگایا گیا تھا، جس کی اوسط نکالی جائے تو روزانہ پی آئی اے کے خسارے کا تخمینہ 50 کروڑ روپے ہوگیا۔ حکومت نے ماضی میں یقین دہانی کرائی تھی کہ نجکاری کے دوران کسی ملازم کو ادارے سے نکالا نہیں جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








