بھارت کی گجرات یونیورسٹی میں مسلمان طلبہ پر ہندوتوا کے پیروکاروں نے ہجوم کی صورت میں چاقوؤں اور پتھروں سمیت دیگر ہتھیاروں سے حملہ کردیا جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔
بھارت میں بڑھتی ہوئی نفرت کے خلاف برسرپیکارصحافی گروپ (ہیٹ ڈیٹیکٹرز) کے مطابق ہندوتوا کے پیروکاروں نے گجرات کی سرکاری یونیورسٹی کے عالمی طلبہ پر نمازِ تراویح کی ادائیگی کے باعث ہفتے کی رات کو حملہ کردیا۔ حملے کے نتیجے میں متعدد طلبہ زخمی ہوگئے اور ہاسٹل میں توڑ پھوڑ ہوئی، واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں۔
ہر سال رمضان المبارک کے موقعے پر نمازِ تراویح کی عشاء کی نماز کے ساتھ ادائیگی مسلمانوں کی مذہبی روایات کا حصہ ہے۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ پرتشدد ہندوتوا کے ہجوم میں شامل افراد نے اسلاموفوبیا پر مبنی نعرے بازی کی اور جے شری رام کے نعرے بھی لگائے۔واقعے کی مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں مسلمان طالبِ علم کی گفتگو سنی جاسکتی ہے۔
A #Hindutva mob attacked #Muslim international students studying at #GujaratUniversity, one of the public state universities in #Gujarat’s #Ahmedabad, over offering Taraweeh prayers at their hostel on Saturday night, March 16th. Videos of the attack are viral on social media,… pic.twitter.com/uKKv5glCdt
— Hate Detector ???? (@HateDetectors) March 17, 2024
طلبہ کا کہنا ہے کہ ہندوتوا کے پیروکاروں نے چاقو، کرکٹ کے بیٹ، پتھر اور دیگر ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے جن سے ہم پر حملہ کیا گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد بھی غنڈوں کو نہیں روکا اور کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔ واقعے کے نتیجے میں 5 طلبہ زخمی ہوگئے۔خیال رہے کہ بھارتی پولیس اس سے قبل متعدد واقعات میں بھی ہندوتوا کے متشدد پیروکاروں کا ساتھ دیتی آئی ہے۔
زخمی ہونے والے طلبہ کو سردار ولابھائی پٹیل انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ ہسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں زخمی طلبہ کو اسٹریچر پر لیٹے دیکھا جاسکتا ہے جنہیں ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔واقعے کے نتیجے میں سوشل میڈیا صارفین میں انتہا پسندی کے خلاف غم و غصہ اور اشتعال پھیل گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








