لندن: پاکستان اور بھارت کے مابین 5اگست 2019ء سے کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے تجارتی تعلقات ختم جبکہ سفارتی تعلقات محدود ہیں، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت سے تجارتی تعلقات کی بحالی کا عندیہ دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لندن میں میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے کاروباری افراد بھارت سے تجارت کی بحالی کے خواہاں ہیں، پاکستان بھارت کے ساتھ تجارت کے امکانات کا جائزہ لے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 16 ماہ کی حکومت میں ملک کو صرف دیوالیہ ہونے سے بچایا اور پی ڈی ایم حکومت نے اپنا وعدہ نبھایا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے بارودی سرنگیں بچھائی تھیں۔
نجی ٹی وی (جیو نیوز) کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ عمران خان حکومت نے جاتے جاتے کہا تھا کہ ہم بارودی سرنگیں بچھا کر جارہے ہیں۔ دنیا میں 24ویں معیشت کو 47ویں معیشت بنانے والوں نے ملک کا بیڑا غرق کردیا۔ اگر امریکی سفیر عمران خان سے ملاقات کیلئے درخواست کریں گے تو فیصلہ عدالت کا ہوگا۔ حکومت کا نہیں۔ انتخابات پر ڈونلڈ لو کی گفتگو نئی بات نہیں۔
رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ دھاندلی ہوئی تھی تو کے پی کے میں ایک ہی پارٹی 75فیصد نشستیں کیسے جیت گئی؟ سندھ میں پی پی پی کو 70فیصد نشستیں ملیں۔ انتخابات پر شکایت کرنے والے عدالتوں اور ٹریبونل کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ ہم نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کو بتایا کہ گل بہادر گروپ نے دہشت گردی کی۔ معنی خیز ایکشن نہ لینے پر ہم نے کارروائی کی۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آئندہ چند ہفتوں میں برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون پاکستان کے دورے کیلئے اسلام آباد پہنچیں گے، پاکستان جوہری توانائی کے محفوظ استعمال کے متعلق اپنے تجربات دنیا سے شیئر کرنے کو تیار ہے، عالمی مالیاتی ادارے بھی جوہری توانائی کے منصوبوں کے متعلق تعاون کریں۔ میں ٹوئٹر کی بحالی کے متعلق مسائل حل کرنے کیلئے کوشش کروں گا جس پر لندن میں بھی گفتگو ہوئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








