ایف بی آر نے دکانداروں اور تاجروں کو آئی ایم ایف کے مطالبے پر ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے بڑا قدم اٹھا لیا۔ ڈیلرز، ریٹیلرز، مینو فیکچررز اور امپورٹرز کی لازمی رجسٹریشن ہوگی، اسکیم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی (ڈان نیوز) کی رپورٹ کے مطابق ہر دکاندار کو سالانہ کم از کم 1200روپے ٹیکس کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ یکم اپریل سے ابتدائی طور پر ملک کے 6 بڑے شہروں کراچی، لاہور، راولپنڈی اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور میں یکم اپریل سے رجسٹریشن کا آغاز ہوگا۔ ایف بی آر نے مسودے پر اعتراضات عائد کرنے اور تجاویز دینے کیلئے 7روز کی مہلت دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رجسٹریشن نہ کرانے والے تاجروں کو نیشنل بزنس رجسٹری میں زبردستی رجسٹر کیا جائے گا۔ تاجروں سے ٹیکس دکان کی سالانہ رینٹل ویلیو کے حساب سے وصول ہوگا۔ ہر دکاندار سالانہ کم از کم 1200روپے ٹیکس دے گا، پہلی ٹیکس وصولی 15جولائی سے ہوگی۔ ہر ماہ کی مقررہ 15تاریخ سے قبل ٹیکس کی ادائیگی کی صورت میں 25فیصد رعایت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 2023 کا انکم ٹیکس گوشوارہ جمع کرانے والے تاجروں کو بھی رعایت ملے گی۔ ایف بی آر تاجر دوست ایپ کے ذریعے تاجروں اور دکانداروں کی مرکزی ڈیٹا بیس تیار کرے گا جبکہ لازمی رجسٹریشن اسکیم پر اسٹیک ہولڈرز کی رائے طلب کی گئی ہے۔ آئندہ ماہ کے آغاز میں یکم اپریل سے ہی تاجر دوست ایپ سے انکم ٹیکس کی ادائیگی کیلئے رجسٹریشن کراسکیں گے۔
قبل ازیں پاکستان نے گزشتہ ہفتے ہی آئی ایم ایف سے قلیل مدتی قرض پروگرام کیلئے جائزہ مذاکرات کیے، اسی دوران ایف بی آر نے ٹیکس آمدنی کا پلان آئی ایم ایف کے سامنے رکھا تھا جس میں بتایا گیا کہ پاکستان ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کرے گا جس کا مقصد محصولات کو بڑھانا ہے۔ ملک بھر کے لاکھوں ریٹیلرز ٹیکس نیٹ میں آنے سے حکومت کو ٹیکس محصولات میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








