دنیا کی 10سب سے خوبصورت شاہی خواتین، آپ کی فیورٹ کون؟

تازہ ترین

تازہ ترین

PHOTO:ONLINE

دنیا میں جہاں کئی ممالک میں جمہوری نظام قائم ہے وہاں آج بھی بیشتر ممالک میں شاہی نظام رائج ہے اور قوانین اور طریقہ کار بھلے ہی سب کے مختلف ہوں لیکن تمام شاہی خاندانوں میں ایک قدر مشترک ہے وہ ہے شاہی خواتین جنہیں پوری دنیا میں پسند کیا جاتا ہے۔

ہم نے اس وقت دنیا کی مشہور 10 خوبصورت ترین شاہی خواتین کا انتخاب کیا ہے، دیکھیں ان میں سے آپ کی فیورٹ کون ہے۔

10۔ اردن کی ملکہ رانیا

PHOTO:ONLINE

رانیا ال یاسین 31 اگست 1970 کو کویت میں فلسطینی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ملکہ رانیا نے کویت میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد قاہرہ میں امریکن یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈگری حاصل کی۔
رانیا کی اردن کے شہزادہ عبداللہ بن الحسین سے جنوری 1993 میں ایک ڈنر پارٹی میں ملاقات ہوئی تھی۔ 10 جون 1993 کو ان کی شادی ظہران پیلس میں ہوئی۔ ان کی شادی کی تقریب کو قومی تعطیل سمجھا جاتا تھا۔ جوڑے کے چار بچے ہیں۔

9۔سویڈن کی شہزادی میڈلین

PHOTO:ONLINE

سویڈن کی شہزادی میڈلین بادشاہ کارل اور ملکہ سلویا کی دوسری بیٹی اور آخری اولاد ہیں۔ اپنی پیدائش کے بعدوہ سویڈش تخت کی جانشینی کی قطار میں تیسرے نمبر پر تھیں۔ شہزادی میڈلین نے برطانوی نژاد امریکی فنانسر کرسٹوفر او نیل سے شادی کی ہے۔ ان کے تین بچے ہیں، شہزادی لیونور، پرنس نکولس اور شہزادی ایڈرین۔

8۔ کیتھرین، ویلز کی شہزادی

PHOTO:ONLINE

کیٹ مڈلٹن کے نام سے مشہور کیتھرین برطانوی شاہی خاندان کی رکن ہیں۔ان کی شادی پرنس آف ویلز ولیم سے ہوئی جو برطانوی تخت کے وارث ہیں۔
ریڈنگ میں پیدا ہونیوالی کیتھرین برکشائر میں پلی بڑھی۔ اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز میں آرٹ ہسٹری کی تعلیم حاصل کرنے سے پہلے انہوں نے سینٹ اینڈریو اسکول اور مارلبورو کالج میں تعلیم حاصل کی، جہاں ان کی ملاقات 2001 میں شہزادہ ولیم سے ہوئی۔ ان کی شادی 29 اپریل 2011 کو ویسٹ منسٹر ایبی میں ہوئی جس کے بعد وہ کیمبرج کی ڈچس بن گئیں۔ جوڑے کے تین بچے ہیں: جارج، شارلٹ اور لوئس۔

7۔شارلٹ میری پوملین کیسراگھی، موناکو

PHOTO:ONLINE

موناکو کی شہزادی شارلٹ ماڈل، سوشل ورکر، مصنف، ایڈیٹر، گھڑ سوار، صحافی، فلم پروڈیوسر، اور انسان دوست شخصیت ہیں۔وہ ہینوور کی شہزادی کیرولین اور اطالوی صنعت کار سٹیفانو کیسراگھی کی دوسری اولاد ہے۔شہزادی شارلٹ موناکو کے تخت کی قطار میں گیارہویں نمبر پر ہے۔

6۔موناکو کی شہزادی شرلین

موناکو کی شہزادی شرلین پرنس البرٹ II کی اہلیہ ہیں، شادی سے پہلے شرلین جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرنے والی اولمپک تیراک تھیں۔شرلین بولاویومیں پیدا ہوئیں اور 1989 میں جنوبی افریقہ منتقل ہو گئیں۔ انہوں نے 1996 میں اپنے تیراکی کے کیریئر کا آغاز کیا اور 2000 کے سڈنی اولمپکس میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی۔شرلین نے 2000 میں پرنس البرٹ سے ملاقات کی اور جوڑے نے یکم جولائی 2011 کو شادی کی۔

5۔ڈنمارک کی کوئین میری

PHOTO:ONLINE

کوئین میری ڈنمارک کے بادشاہ فریڈرک ایکس کی اہلیہ ہیں۔14 مئی 2004 کومیری اور ڈنمارک کے شہزادہ فریڈرک کی شادی کوپن ہیگن کیتھڈرل میں ہوئی۔ ان کے چار بچے ہیں: پرنس کرسچین، شہزادی ازابیلا، پرنس ونسنٹ اور شہزادی جوزفین۔اس وقت میری ڈنمارک کی کوئین بن چکی ہیں اور دنیا کی بااثر شخصیات میں شمار کی جاتی ہیں۔

4۔ لیڈی امیلیا ونڈسر، برطانیہ

PHOTO:ONLINE

لیڈی امیلیا صوفیہ تھیوڈورا میری مارگریٹ ونڈسر ایک انگریزی فیشن ماڈل اور برطانوی شاہی خاندان کی رکن ہیں۔ ارل کی بیٹی کے طور پر وہ خاتون کا خطاب برقرار رکھنے کے لیے آزاد ہے۔ وہ برطانوی تخت کی جانشینی کی صف میں 43ویں نمبر پر ہیں۔ وہ ڈیوک آف کینٹ پرنس ایڈورڈکی پوتی ہیں، جارج پنجم اور ملکہ میری کی پڑپوتی جبکہ چارلس III کی دوسری کزن ہے۔

3۔دبئی کی شہزادی شیخہ مہرہ

PHOTO:ONLINE

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر ، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی شیخہ مہرہ ایک مشہور شہزادی، مخیر، کاروباری خاتون اورسوشل میڈیا کی متاثر کن شخصیت سمجھی جاتی ہیں اور متعدد خیراتی تنظیموں سے منسلک ہونے کی وجہ سے اپنی انسانی ہمدردی کی کوششوں کے لیے مشہور ہیں۔

2۔مراکش کی شہزادی لیلیٰ سلمیٰ

شہزادی لیلیٰ سلمیٰ مراکش کے باد شاہ محمد ہشتم کی سابقہ اہلیہ ہیں۔ طلاق کے بعد سےلیلیٰ سلمیٰ بہت کم منظر عام پر آتی ہیں تاہم خوبصورت ترین شاہی خواتین میں انہیں نمایاں مقام حاصل ہے۔

1۔ شہزادی امیرہ التاویل

PHOTO:ONLINE

امیرہ بنت عدن بن نایف التاویل سعودی عرب کی مخیر شخصیت اور سابق شہزادی ہیں۔وہ 2008 میں الولید بن طلال السعود سے شادی کرنے کے بعد ہاؤس آف سعود سے منسلک ہوئیں، ان کی شادی 2013 میں طلاق پر ختم ہوئی ۔ امیرہ اس وقت قطر میں نوجوانوں کے روزگار کی ایک تنظیم سلیٹیک کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی رکن ہیں اور طویل عرصے سے سعودی خواتین کے حقوق کی علمبردار رہی ہیں۔

Related Posts