پنجاب کے شہر واہ کینٹ میں 5 افراد نے ملتان سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے بعد ویڈیوز و تصاویر وائرل کردیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملتان سے تعلق رکھنے والی ٹرانسجینڈر نے الزام لگایا کہ اُس کے ساتھ واہ کینٹ میں پانچ افراد نے مبینہ زیادتی کی اور نازیبا تصاویر و وڈیو بناکر بلیک میل کرتے رہے، مطالبات ماننے سے انکار کیا تو تصاویر اور وڈیوز وائرل وائرل کردیں۔
ٹرانسجنڈر کی اپیل پر سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے معاملے کا نوٹس لیا اور متاثرہ ٹرانس جینڈر کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ملتان سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا نے پولیس بیان میں بتایا کہ وہ شادی بیاہ کے فنکشن کرتی ہیں، اس کام کے دوران سوشل میڈیا پر راولپنڈی گودوال کے چوہدری سرفراز سے تعارف ہوا اور پھر تقریبات میں ملاقاتوں کے بعد ان سے دوستی ہوگئی۔
متاثرہ خواجہ سرا کے مطابق رمضان سے پہلے چوہدری سرفراز سے آخری ملاقات میں اُس کے دوست بھی موجود تھے جنہوں نے بتایا کہ ایک فنکشن میں تم نے شرکت کرنی ہے، مقررہ تاریخ پر تقریب کیلئے میں دوبارہ ملتان سے پنڈی آئی تو ملزم اپنے ڈیرے پر لے گیا جہاں اس نے زبردستی شراب پلا کر اپنے چار دوستوں کے ساتھ اسلحے کی نوک پر مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
خواجہ سرا کے مطابق ملزمان نے نازیبا تصاویر اور ویڈیوز بنائیں اور کہا اب تم نے ہم سے پکی دوستی کرنی ہے اور ہمارے مطالبات پورے کرنے ہیں، تاہم مسلسل مطالبات سے تنگ آکر میں نے انکار کیا تو ملزمان نے نازیبا تصاویر اور وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کردیں۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کردئیے۔ سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کو کہناتھا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








