ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل اور ڈورن حملوں کے بعد پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، عالمی رہنماؤں نے حملے کے حوالے سے بیانات جاری کردیئے ہیں۔آیئے آپ کو چند ممالک کے سرکاری بیانات اور سوشل میڈیا پر پوسٹنگ کے بارے میں بتاتے ہیں۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہوکا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں اور خاص طور پر حالیہ ہفتوں میں اسرائیل ایران کے براہ راست حملے سے نمٹنے کی تیاری کر رہا ہے، ہمارا دفاعی نظام فعال ہے۔ ہم دفاعی اور جارحانہ طور پر کسی بھی صورت حال کے لیے تیار ہیں۔ہم اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کے ساتھ ساتھ برطانیہ، فرانس اور دیگر کئی ممالک کی حمایت کو سراہتے ہیں۔ ہم نے ایک واضح اصول طے کیا ہے: جو ہمیں نقصان پہنچائے گا، ہم اسے نقصان پہنچائیں گے۔ ہم کسی بھی خطرے کے خلاف اپنا دفاع کریں گے۔
اقوام متحدہ
ایران میں اقوام متحدہ کے مشن کا کہنا ہے کہ ایران کی فوجی کارروائی دمشق میں ہمارے سفارتی احاطے پر صیہونی حکومت کی جارحیت کے جواب میں تھی۔ معاملے کو نتیجہ خیز سمجھا جا سکتا ہے تاہم اگر اسرائیلی حکومت نے ایک اور غلطی کی تو ایران کا ردعمل کافی زیادہ سخت ہوگا۔ یہ ایران اور اسرائیلی حکومت کے درمیان تنازعہ ہے، جس سے امریکہ کو دور رہنا چاہیے۔
امریکی صدر جو بائیڈن
امریکا کے صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ “میں نے ابھی اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے اسرائیل کے خلاف ایران کے حملوں کے حوالے سے بات چیت کی ہے،ایران کے حملوں کے بعد اسرائیل کی سلامتی کے لیے ہماری وابستگی نمایاں ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کا کہنا ہے کہ “جب کہ اسرائیل کو ایران کی طرف سے شیطانی حملے کا سامنا ہے، امریکا کو اپنے اہم اتحادی کے ساتھ کھڑے ہونے کا پورا عزم ظاہر کرنا چاہیے۔ دنیا کو یقین دلانا چاہیے کہ اسرائیل تنہا نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ “میں ایران کی طرف سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ میں ان دشمنیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتا ہوں۔”میں پورے خطے میں تباہ کن اضافے کے حقیقی خطرے کے بارے میں بہت پریشان ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تمام فریقوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کیا جائے جو مشرق وسطیٰ میں متعدد محاذوں پر بڑے فوجی تصادم کا باعث بن سکے۔”میں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ نہ تو خطہ اور نہ ہی دنیا جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے۔”
برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک
برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ “میں اسرائیل کے خلاف ایرانی حکومت کے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ ان حملوں سے کشیدگی کو ہوا دینے اور خطے میں عدم استحکام کا خطرہ ہے۔ ایران نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیا میں افراتفری کے بیج بونے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “برطانیہ اسرائیل اور اردن اور عراق سمیت اپنے تمام علاقائی شراکت داروں کی سلامتی کے لیے کھڑا رہے گا۔ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ہم صورتحال کو مستحکم کرنے اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری طور پر کام کر رہے ہیں۔ کوئی مزید خونریزی نہیں دیکھنا چاہتا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو
کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈوکا کہنا ہے کہ “کینیڈا واضح طور پر اسرائیل کے خلاف ایران کے فضائی حملوں کی مذمت کرتا ہے۔ ہم اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حماس کے 7 اکتوبر کے وحشیانہ حملے کی حمایت کرنے کے بعد ایرانی حکومت کے تازہ ترین اقدامات خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کر دیں گے اور دیرپا امن کو مزید مشکل بنا دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ “یہ حملے ایک بار پھر خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایرانی حکومت کی نظر اندازی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہم اسرائیل کے ان حملوں سے اپنے اور اپنے لوگوں کے دفاع کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔
جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیربوک
جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیربوک کا کہنا ہے کہ “ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغے ہیں۔ ہم حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں جو پورے خطے کو افراتفری میں ڈال سکتا ہے۔ ایران کو کشیدگی کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔ اسرائیل کے ساتھ مکمل یکجہتی کرتے ہیں ۔
فرانس کے وزیر خارجہ اسٹیفن سیجورن
فرانسیسی وزیر خارجہ اسٹیفن سیجورن کا کہنا ہے کہ فرانس اسرائیل کے خلاف ایران کے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اس طرح کی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے ایران اپنے عدم استحکام کے اقدامات میں ایک نیا قدم اٹھا رہا ہے اور فوجی کشیدگی کا خطرہ مول لے رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ یورپی یونین اسرائیل کے خلاف ناقابل قبول ایرانی حملے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ یہ علاقائی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
یورپین کونسل کے صدر چارلس مائیکل
یورپین کونسل کے صدر چارلس مائیکل کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے اسرائیل پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ مزید علاقائی کشیدگی کو روکنے کے لیے سب کچھ کیا جانا چاہیے۔ مزید خونریزی سے بچنا ہوگا۔ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر صورتحال کی پیروی کرتے رہیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








