سعودی عرب آئندہ ماہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکوڈک کاپر گولڈ پروجیکٹ میں ایک ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کریگا، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل اس سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
سعودی سرمایہ کاری کے بغیر کسی رکاوٹ کے پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے وزیراعظم وزارت خزانہ کی کمیٹی قائم کریں گے جس میں ملک کے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے۔
اس سرمایہ کاری کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کان کنی کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کے لیے باقاعدہ معاہدوں کی توقع ہے۔
بیرک گولڈ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹیو مارک برسٹو نے ریکوڈک کو عالمی سطح پر کاپر گولڈ کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ منصوبوں میں سے ایک قرار دیاہے۔
بیرک کا مقصد 2028 میں کان کنی کی کارروائیاں شروع کرنا ہے جب تک کہ جاری فزیبلٹی اسٹڈی کے نتائج سامنے نہ آئیں۔ مارک برسٹو نے اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، “ابھی کوئی بھی تانبے کی کان ایک بڑی بات ہے۔”
گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان اور بیرک گولڈ کارپوریشن نے ریکوڈک منصوبے سے متعلق 8 بلین ڈالر کے تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








