فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا سخت ردِ عمل، حکم نامہ جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

الیکشن کمیشن
(فوٹو: آن لائن)

اسلام آباد: فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے، عدالتِ عظمیٰ نے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے رپورٹ کو ٹی او آرز کے خلاف قرار دے دیا۔ 

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پر جاری کردہ حکم نامے میں کہا کہ کمیشن نے مینڈیٹ سے باہر جا کر اصرار کیا کہ مخصوص شخص نے کچھ غلط نہیں کیا، کمیشن نے محض اس شخص کی تحریری تردید پر انحصار کر لیا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ فیض آباد دھرنا کمیشن نے سب فریقین سے مساوی سلوک نہیں کیا، ایک فریق سے حلفی بیان لیا گیا تو دوسرے سے سادہ بیان پر انحصار کیا گیا۔ دونوں فریقین کو ایک دوسرے پر سوال و جواب اور جرح کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔

سپریم کورٹ کا فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ میں صوبائیت کی جھلک کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ رپورٹ میں محض جملے بازی اور اصطلاحات موجود ہیں، ٹھوس مواد موجود نہیں۔ اٹارنی جنرل نے بھی رپورٹ کو ٹھوس مواد سے خالی قرار دیا ہے ۔

عدالتِ عظمیٰ کا اپنے حکم نامے میں کہنا ہے کہ ٹی ایل پی (تحریکِ لبیک) کے کسی فریق کا فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ میں بیان ہی نہیں لیا گیا۔ اٹارنی جنرل دو ہفتوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے جواب جمع کرائیں کہ رپورٹ پبلک کی جائے گی یا نہیں۔

Related Posts