کراچی میں سیاسی درندگی، فسطائیت، فاشزم اور قتل و خون سے بھرپور سانحہ 12 مئی کو 17 برس بیت گئے، مقتولین کے لواحقین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہوگا کہ آج سے ٹھیک 17 برس قبل اس دن کراچی میں کیا ہوا تھا، جنہیں معلوم ہے انہیں سب کچھ یاد آگیا ہوگا کیونکہ اس دن کراچی میں لسانی عصبیت پر کاربند بظاہر ایک سیاسی جماعت نے اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کی غیر رسمی تائید سے فاشزم کا وہ کھیل کھیلا تھا کہ درندگے بھی شرما گئی تھی۔
12 مئی 2007 کراچی کی تاریخ کا وہ بدترین دن ہے جسے کراچی کے شہری بھولنا بھی چاہیں تو بھلایا نہیں جاسکتا۔ یہ انہی دنوں کی بات تھی جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے پی سی او پر حلف اٹھانے سے انکار پر عہدے سے غیر قانونی طور بر طرف کر دیا تھا۔
جسٹس چودھری کی برطرفی پر وکلا نے عدلیہ بحالی تحریک شروع کردی، اسی تحریک کے دوران جسٹس افتخار چودھری کراچی کے دورے پر نکلے، جہاں بارہ مئی کو انہوں نے وکلا کے اجتماع سے خطاب کرنا تھا، مگر پرویز مشرف کی آلہ کار کراچی پر مسلط ایک لسانی تنظیم نے انہیں ایئرپورٹ سے باہر نکلنے ہی نہ دیا۔
واقعات کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کراچی بار سے خطاب کے لیے شہر قائد پہنچے لیکن انہیں ایئرپورٹ پر ہی روک دیا گیا اور ساتھ ہی شہر کی تمام شاہراہوں پر کنٹینر لگا کر رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں تاکہ اپوزیشن جماعتیں اور وکلا افتخار چودھری کا استقبال نہ کرسکیں۔
چیف جسٹس کے طیارہ نے کراچی ائرپورٹ پر لینڈ کیا تو شہر میں افراتفری مچ گئی، شاہراہیں بند کرنے کے ساتھ لسانی تنظیم نے، شہر پر اپنے تسلط سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا اور دن بھر پچاس سے زائد سیاسی کارکن اور عام افراد شہید ہوئے۔
بارہ مئی کے اس المناک سیاسی سانحے پر کئی کمیشن بنے، سماعتیں بھی ہوئیں، نوٹسز بھی لیے گئے لیکن اس سانحے کے ذمہ داروں کو اب تک کوئی سزا نہیں ملی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








