شیخوپورہ کے شہباز شریف مدر اینڈ چلڈرن اسپتال میں 3 سیکورٹی گارڈز کی 3 بچوں کی ماں کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے بعد متاثرہ خاتون نے خود کشی کرلی۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق شیخوپورہ کی ایک خاتون جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے، کی بیٹی کئی دنوں سے بیمار تھیں جس کے باعث وہ اس کی تیمارداری کے لیے ہمہ وقت اس کے ساتھ اسپتال میں موجود رہتی تھیں، تاہم 8 مارچ 2024 کی رات انہوں نے اپنی بہن چھوٹی بہن جو شادی شدہ اور تین بچوں کی ماں تھی، کو یہ کہہ کر اسپتال بلالیا کہ وہ اکیلی ہے۔
خاتون کے بھائی کے مطابق ان کی بہن بڑی بہن کی کال پر اسپتال پہنچی تو ان کا سامنا کاظم نامی سکیورٹی گارڈ سے ہوا۔ وہ اسپتال میں اپنی بہن کی تلاش میں تھیں جبکہ گارڈ اس کی بہن کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔
بھائی کے مطابق گارڈ نے ان کی بہن کو گمراہ کیا اور کہا کہ ان کی بھانجی ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئی ہے۔ بھائی کے بقول میری بہن نے کہا کہ میری بھانجی شدید بیمار ہے اور میری بہن بھی اس کے ساتھ ہیں۔ وہ ابھی ڈسچارج نہیں ہوئیں جس پر گارڈ نے ان سے کہا کہ وہ اسے سینئر ڈاکٹر سے ملائے گا جو انہیں فائل دے کر بچی کو ڈسچارج کر دے گا۔
ان کے بقول میری بہن اس کے ساتھ چلی گئیں تو وہ اسے ایک کمرے میں لے گیا جہاں کوئی نہیں تھا اور دست درازی کی کوشش کی۔ بھائی نے الزام لگایا کہ گارڈ نے اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ ان کی بہن کو زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور تینوں گارڈز فرار ہوگئے۔
متاثرہ خاتون کے بھائی کے مطابق اس کی والدہ نے اسی وقت مقامی پولیس تھانے میں مقدمہ درج کروا دیا تھا اور پولیس نے کارروائی بھی شروع کر دی تھی۔ بھائی کے مطابق واقعے کے بعد ان کی بہن رات کو اپنے کمرے میں گئیں اور زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی۔
پولیس نے واقعے کے اگلے روز ہی مرکزی ملزم کاظم کو حراست میں لے لیا، جبکہ اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ خاتون نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے علاوہ میڈیکل بھی کروایا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








