ایران کے صدر ابراہیم رئیسی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان سمیت صوبہ مشرقی آذربائیجان کے علاقے وارزغان میں ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایران کا نظام حکومت اس اہم انتظامی خلا کے متعلق کیا کہتا ہے؟
ایرانی کابینہ نے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی حادثاتی موت کے بعد وزارت خارجہ کے سیاسی نائب علی باقری کو اس وزارت کا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔
دوسری طرف صدر کی ناگہانی موت کے ساتھ ہی ملک کے آئین کے مطابق حکومتی امور کی ذمہ داری نائب صدر محمد مخبر کے پاس چلی گئی ہے، جس کی منظوری دستور کے مطابق سپریم لیڈر خامنہ ای نے دے دی ہے۔
ایران کے آئین کے آرٹیکل131 اور 132 کے مطابق صدر کی موت، برطرفی، استعفیٰ، دو ماہ سے زائد عرصے تک غیر حاضری، علالت یا صدارت کی مدت ختم ہونے یا اس طرح کی دیگر صورتوں میں نائب صدر ملک کے سپریم لیڈر کی منظوری سے صدارتی اختیارات اور ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔
علاوہ ازیں اس صورتحال میں پارلیمنٹ کے اسپیکر، عدلیہ کے سربراہ اور نائب صدر پر مشتمل کونسل 50 دنوں کے اندر نئے صدر کے انتخاب کا انتظام کرنے کی پابند ہوتی ہے۔
ایران کے آئین کے مطابق نائب صدر کی موت یا دیگر مسائل جو اسے اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکیں، کی صورت میں سپریم لیڈر کسی دوسرے شخص کو اپنی صوابدید کے مطابق مقرر کرتا ہے۔
اس مدت کے دوران جب صدر کے اختیارات اور ذمہ داریاں نائب صدر یا آرٹیکل 131 کے مطابق کسی دوسرے شخص کے پاس ہوں، وزراء کا مواخذہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انہیں عدم اعتماد کا ووٹ دیا جاسکتا ہے اور آئین پر نظرثانی یا ریفرنڈم بھی نہیں کرایا جاسکتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








