امریکی ماہرین کی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کینسر کے آخری اسٹیج میں مریضوں کیلئے علاج بنیادی طور پر ’بیکار‘ ہو جاتا ہے اور ایسے موقع پر معالجین کو صاف صاف بتا دینا چاہئے کہ ان کا علاج اب نہیں ہوسکتا۔
موقر معاصر ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی اونکولوجی جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کیموتھراپی، امیونو تھراپی، ٹارگٹڈ تھراپیز اور ہارمون تھراپی جیسے کینسر کے مختلف طریقہ علاج ایسے مریضوں کو بچانے میں ناکام ہوجاتے ہیں جن میں کینسر کا آخری اسٹیج ہو اور وہ موت کے قریب ہوں۔
ییل کینسر سینٹر کی ایسوسی ایٹ ریسرچ سائنسدان مورین کیناوان نے کہا کہ چونکہ ہمیں ایسے مریضوں کی بقا کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، لہٰذا اس لیے تمام آنکولوجسٹ کو چاہیے کہ وہ صاف صاف اور ایمانداری کے ساتھ اپنے مریضوں کو حقیقت سے آگاہ کردیں۔
محققین نے 2015 اور 2019 کے درمیان 280 امریکی کینسر کلینکوں میں زیر علاج 78,000 بالغ مریضوں کے ریکارڈز کا تجزیہ کیا۔ نتائج نے ایسے مریضوں کے لیے کوئی کامیاب علاج کے اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے جو کینسر کے آخری اسٹیج پر تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








